تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ لقمان (31) — آیت 19

وَ اقۡصِدۡ فِیۡ مَشۡیِکَ وَ اغۡضُضۡ مِنۡ صَوۡتِکَ ؕ اِنَّ اَنۡکَرَ الۡاَصۡوَاتِ لَصَوۡتُ الۡحَمِیۡرِ ﴿٪۱۹﴾
اور اپنی چال میں میانہ روی رکھ اور اپنی آواز کچھ نیچی رکھ، بے شک سب آوازوں سے بری یقینا گدھے کی آواز ہے۔ En
اور اپنی چال میں اعتدال کئے رہنا اور (بولتے وقت) آواز نیچی رکھنا کیونکہ (اُونچی آواز گدھوں کی ہے اور کچھ شک نہیں کہ) سب آوازوں سے بُری آواز گدھوں کی ہے
En
اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر، اور اپنی آواز پست کر یقیناً آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھوں کی آواز ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِكَ اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کر۔ تکبر اور اتراہٹ کی چال چل نہ بناوٹ کی، بلکہ تواضع اور انکسار کے ساتھ چل۔ ﴿وَاغْ٘ضُ٘ضْ مِنْ صَوْتِكَ اللہ تعالیٰ کے حضور لوگوں کے ساتھ ادب کے طور پر اپنی آواز کو دھیما رکھ۔ ﴿اِنَّ اَنْؔكَرَ الْاَصْوَاتِ یعنی بدترین اور قبیح ترین آواز ﴿لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ گدھوں کی آواز ہے۔ اگر بہت زیادہ بلند آواز میں کوئی مصلحت ہوتی تو اللہ تعالیٰ اس کو گدھے کے ساتھ مختص نہ کرتا جس کی خساست اور کم عقلی مسلّم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{واقصِدْ في مشيِكَ}؛ أي: امش متواضعاً مستكيناً لا مشي البطر والتكبُّر ولا مشي التماوت، {واغْضُضْ من صوتِكَ}: أدباً مع الناس ومع الله، {إنَّ أنكر الأصواتِ}؛ أي: أفظعها وأبشعها {لصوتُ الحميرِ}: فلو كان في رفع الصوت البليغ فائدةٌ ومصلحةٌ؛ لما اختصَّ بذلك الحمار الذي قد عُلِمْتَ خسَّتَه وبلادَتَه.