اے میرے چھوٹے بیٹے! نماز قائم کر اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور اس (مصیبت) پر صبر کر جو تجھے پہنچے، یقینا یہ ہمت کے کاموں سے ہے۔
En
بیٹا نماز کی پابندی رکھنا اور (لوگوں کو) اچھے کاموں کے کرنے کا امر اور بری باتوں سے منع کرتے رہنا اور جو مصیبت تجھ پر واقع ہو اس پر صبر کرنا۔ بیشک یہ بڑی ہمت کے کام ہیں
اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا، اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا، برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا (یقین مانو) کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿یٰبُنَیَّاَقِمِالصَّلٰوةَ ﴾”اے بیٹے! نماز کی پابندی کر“ آپ نے اسے نماز کی ترغیب دی اور نماز کو اس لیے مختص کیا کہ یہ سب سے بڑی بدنی عبادت ہے۔ ﴿وَاْمُرْبِالْ٘مَعْرُوْفِوَانْهَعَنِالْمُنْؔكَرِ ﴾”اور نیک کاموں کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کر۔“ یہ حکم اوامر و نواہی کی معرفت کو مستلزم ہے تاکہ معروف کا حکم دیا جائے اور نواہی سے روکا جائے، نیز یہ ایسے امر کا حکم ہے جس کے بغیر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تکمیل ممکن نہیں، مثلاً: نرمی اور صبر وغیرہ۔ اگلے جملے میں صراحت کے ساتھ فرمایا: ﴿وَاصْبِرْعَلٰىمَاۤاَصَابَكَ ﴾”اور اس تکلیف پر صبر کر جو تجھے پہنچے۔“
یہ آیات کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نیکی پر عمل کر کے اور برائی کو ترک کر کے خود اپنی ذات کی تکمیل کی جائے، پھر نیکی کا حکم دے کر اور برائی سے روک کر دوسروں کی تکمیل کی جائے۔ چونکہ یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ جب بندہ نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا تو لامحالہ اسے آزمائش کا سامنا کرنا پڑے گا نیز اس راستے میں نفس کو مشقت بھی اٹھانا پڑتی ہے اس لیے اس کو اس پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَاصْبِرْعَلٰىمَاۤاَصَابَكَ ١ؕ اِنَّذٰلِكَ ﴾”اور جو مصیبت تم پر آجائے صبر کرنا، بے شک یہ بات“ جس کی لقمان نے اپنے بیٹے کو وصیت کی ہے ﴿مِنْعَزْمِالْاُمُوْرِ﴾ ایسے امور میں سے ہے جن کا عزم کے ساتھ اہتمام کیا جاتا ہے اور صرف اولوالعزم لوگوں کو اس کی توفیق عطا ہوتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{يا بنيَّ أقِمِ الصَّلاة}: حثَّه عليها وخصَّها لأنَّها أكبرُ العبادات البدنيَّة، {وأمُرْ بالمعروفِ وانْهَ عن المنكرِ}: وذلك يستلزم العلم بالمعروف؛ ليأمر به، والعلم بالمنكر؛ لينهى عنه، والأمر بما لا يتمُّ الأمر بالمعروف، والنهي عن المنكر إلاَّ به، من الرفق والصبر، وقد صرَّح به في قوله: {واصْبِرْ على ما أصابك}: ومن كونه فاعلاً لما يأمر به، كافًّا لما يُنهى عنه، فتضمَّن هذا تكميلَ نفسه بفعل الخير وترك الشر، وتكميلَ غيره بذلك بأمره ونهيه. ولمَّا عُلِمَ أنَّه لا بدَّ أن يُبتلى إذا أمر ونهى وأنَّ في الأمر والنهي مشقَّة على النفوس؛ أمره بالصبر على ذلك، فقال: {واصبِرْ على ما أصابَكَ إنَّ ذلك}: الذي وَعَظَ به لقمانُ ابنَه {من عزم الأمورِ}؛ أي: من الأمور التي يُعْزَمُ عليها، ويهتمُّ بها، ولا يوفَّق لها إلا أهلُ العزائم.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔