تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الروم (30) — آیت 52

فَاِنَّکَ لَا تُسۡمِعُ الۡمَوۡتٰی وَ لَا تُسۡمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ ﴿۵۲﴾
پس بے شک تو نہ مردوں کو سناتا ہے اور نہ بہروں کو پکار سناتا ہے، جب وہ پیٹھ پھیر کر لوٹ جائیں۔ En
تو تم مردوں کی (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جب وہ پیٹھ پھیر کر پھر جائیں آواز سنا سکتے ہو
En
بیشک آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو (اپنی) آواز سنا سکتے ہیں جب کہ وه پیٹھ پھیر کر مڑ گئے ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَاِنَّكَ لَا تُ٘سْ٘مِعُ الْمَوْتٰى وَلَا تُ٘سْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ بلاشبہ آپ مردوں کو اپنی پکار سنا سکتے ہیں نہ بہروں کو خاص طور پر اس وقت ﴿اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ جب یہ پیٹھ پھیر کر جا رہے ہوں تب تو آپ ان کو بدرجہ اولیٰ نہیں سنا سکتے کیونکہ ان کے اندر اطاعت اور نفع بخش سماعت کے موانع بہت زیادہ ہیں جس طرح آوازِ حسی کے سننے سے بہت سے موانع ہوتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فإنَّك لا تُسْمِعُ الموتى ولا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعاء}: وبالأولى: {إذا وَلَّوْا مُدْبِرينَ}: فإنَّ الموانع قد توفَّرت فيهم عن الانقياد والسماع النافع كتوفُّر هذه الموانع المذكورة عن سماع الصوتِ الحسيِّ.