تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الروم (30) — آیت 51

وَ لَئِنۡ اَرۡسَلۡنَا رِیۡحًا فَرَاَوۡہُ مُصۡفَرًّا لَّظَلُّوۡا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ یَکۡفُرُوۡنَ ﴿۵۱﴾
اور یقینا اگر ہم کوئی ہوا بھیجیں، پھر وہ اس (کھیتی) کو زرد پڑی ہوئی دیکھیں تو یقینا اس کے بعد نا شکری کرنے لگیں۔ En
اور اگر ہم ایسی ہوا بھیجیں کہ وہ (اس کے سبب) کھیتی کو دیکھیں (کہ) زرد (ہو گئی ہے) تو اس کے بعد وہ ناشکری کرنے لگ جائیں
En
اور اگر ہم باد تند چلا دیں اور یہ لوگ انہی کھیتوں کو (مرجھائی ہوئی) زرد پڑی ہوئی دیکھ لیں تو پھر اس کے بعد ناشکری کرنے لگیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق کا حال بیان کرتا ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کے سایہ کناں ہونے، زمین کے مر جانے کے بعد اس کے زندہ ہونے پر بہت خوش ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اس بارش کے بعد اگنے والی نباتات اور ان کی کھیتیوں پر نقصان دہ اور انھیں تلف کر دینے والی ہوا بھیج دے۔ ﴿فَرَاَوْهُ مُصْفَرًّا لہٰذا وہ اس (کھیتی) کو زرد پڑتا دیکھیں جو تلف ہونے کی حالت کو پہنچ چکی ہے ﴿لَّظَ٘لُّوْا مِنْۢ بَعْدِهٖ یَكْ٘فُرُوْنَ تو وہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے لگ جائیں گے اور اس کی گزشتہ نعمتوں کو بھول جائیں گے۔ ان لوگوں کو وعظ و نصیحت اور زجروتوبیخ کوئی فائدہ نہیں دیتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى عن حالة الخَلْق وأنَّهم مع هذه النعم عليهم بإحياء الأرض بعد موتها ونشرِ رحمةِ الله تعالى: لو أرسَلْنا على هذا النبات الناشئ عن المطرِ وعلى زُروعهم ريحاً مضرَّةً متلفةً أو منقصةً، {فرأوْهُ مُصفرًّا}: قد تداعى إلى التلف، {لَظَلُّوا من بعدِهِ يكفُرون}: فينسَوْن النعم الماضية، ويبادِرون إلى الكفر! وهؤلاء لا ينفع فيهم وعظٌ ولا زجرٌ.