تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الروم (30) — آیت 44

مَنۡ کَفَرَ فَعَلَیۡہِ کُفۡرُہٗ ۚ وَ مَنۡ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنۡفُسِہِمۡ یَمۡہَدُوۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾
جو کفر کرے سو اس کا کفر اسی پر ہے اور جو کوئی نیک عمل کرے سو وہ اپنے ہی لیے سامان تیار کر رہے ہیں۔ En
جس شخص نے کفر کیا تو اس کے کفر کا ضرر اُسی کو ہے اور جس نے نیک عمل کئے تو ایسے لوگ اپنے ہی لئے آرام گاہ درست کرتے ہیں
En
کفر کرنے والوں پر ان کے کفر کا وبال ہوگا اور نیک کام کرنے والے اپنی ہی آرام گاه سنوار رہے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿مَنْ كَفَرَ جس نے کفر کیا ان میں سے ﴿فَعَلَیْهِ كُفْرُهٗ تو اس کے کفر کا ضرر اسی کو ہے۔ یعنی اس کی سزا صرف اسی کی ذات کو ملے گی اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ﴿وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا اور جس نے نیک عمل کیے۔ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ ادا کرتا ہے۔ ﴿فَلِاَنْفُسِهِمْ۠ تو وہ اپنے ہی لیے نہ کہ کسی دوسرے کے لیے ﴿یَمْهَدُوْنَ یہ اعمال صالحہ تیار کر رہے ہیں، اپنی ہی آخرت کو آباد کر رہے ہیں، جنت کے بالاخانوں اور منازل کے حصول کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں۔
بایں ہمہ ان کی جزا ان کے اعمال پر منحصر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بے پایاں فضل اور لامحدود کرم کی بنا پر ان کو اتنی جزا دے گا جہاں تک ان کے اعمال کی رسائی ہی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے اور جب وہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے اپنے بے پایاں احسانات، عنایات فاخرہ، ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے۔ اس کے برعکس، چونکہ اللہ کفار سے ناراض ہے اس لیے وہ ان کو سزا دیتا ہے اور عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی عنایت نہیں کرے گا جیسے اس نے اپنے محبوب بندوں پر کی، اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْ٘كٰفِرِیْنَ بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فَـ {مَنْ كفر}: منهم، {فعليه كفرُهُ}: ويعاقَب هو بنفسِهِ، لا تزِرُ وازرةٌ وزرَ أخرى، {ومن عَمِلَ صالحاً}: من الحقوق التي لله والتي للعباد الواجبة والمستحبَّة {فلأنفسِهِم}: لا لغيرهم؛ {يَمْهَدونَ}؛ أي: يهيِّئون، ولأنفسهم يعمرون آخرتهم، ويستعدُّون للفوز بمنازلها وغرفاتها، ومع ذلك جزاؤهم ليس مقصوراً على أعمالهم، بل يجزيهم الله من فضلِهِ الممدود وكرمِهِ غير المحدود ما لا تبلغُهُ أعمالُهم، وذلك لأنَّه أحبَّهم، وإذا أحبَّ الله عبداً؛ صبَّ عليه الإحسان صبًّا، وأجزل له العطايا الفاخرةَ، وأنعم عليه بالنعم الظاهرة والباطنة، وهذا بخلاف الكافرين؛ فإنَّ الله لمَّا أبغضَهم ومقَتَهم؛ عاقَبَهم وعذَّبهم، ولم يَزِدْهم كما زاد من قبلهم؛ فلهذا قال: {إنَّه لا يحبُّ الكافرين}.