(آیت 44) {مَنْكَفَرَفَعَلَيْهِكُفْرُهٗ …:} اس میں جدا جدا ہونے والے دونوں فریقوں کا حال بیان فرمایا کہ جس نے کفر کیا اس کے کفر کا وبال اسی پر ہو گا اور جو نیک عمل کریں گے وہ اپنے ہی لیے آرام کی جگہ تیار کر رہے ہیں، یا سامان تیار کر رہے ہیں قبر میں، جنت میں بلکہ دنیا میں بھی۔ {”كَفَرَ“} کے ساتھ دوسرے برے اعمال کا ذکر نہیں فرمایا، کیونکہ کفر کے بعد کسی عمل کا اعتبار ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَقَدِمْنَاۤاِلٰىمَاعَمِلُوْامِنْعَمَلٍفَجَعَلْنٰهُهَبَآءًمَّنْثُوْرًا }»[الفرقان: ۲۳]”اور ہم اس کی طرف آئیں گے جو انھوں نے کوئی بھی عمل کیا ہو گا تو اسے بکھرا ہوا غبار بنا دیں گے۔“ اور کفر کے مقابلے میں ایمان کے بجائے عمل صالح فرمایا، کیونکہ ایمان بھی عمل صالح میں شامل ہے اور اس لیے کہ عمل صالح کی اہمیت واضح ہو جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
44-1مَھْد کے معنی راستہ ہموار کرنا، فرش بچھانا، یعنی یہ عمل صالح کے ذریعے سے جنت میں جانے اور وہاں اعلٰی منازل حاصل کرنے کے لئے راستہ ہموار کر رہے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
44۔ جس نے کفر کیا تو اس کا وبال اسی پر ہے اور جس نے نیک عمل کئے تو وہ اپنی ہی (فلاح کی) راہ ہموار کر رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ کے دین میں مستحکم ہو جاؤ ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دین پر جم جانے کی اور چستی سے اللہ کی فرمانبرداری کرنے کی ہدایت کرتا ہے اور فرماتا ہے، ’ مضبوط دین کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو جاؤ، اس سے پہلے کہ قیامت کا دن آئے ‘۔ جب اس کے آنے کا اللہ کا حکم ہو چکے گا پھر اس حکم کو یا اس آنے والی ساعت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ اس دن نیک بد علیحدہ علیحدہ ہو جائیں گے۔ ایک جماعت جنت میں، ایک جماعت بھڑکتی ہوئی آگ میں۔ کافر اپنے کفر کے بوجھ تلے دب رہے ہونگے۔ نیک اعمال لوگ اپنے کئے ہوئے بہترین آرام دہ ذخیرے پر خوش و خرم ہونگے۔ رب انہیں ان کی نیکیوں کا اجر بہت زیادہ بڑھا چڑھا کر کئی کئی گناہ کر کے دے رہا ہو گا۔ ایک ایک نیکی دس دس بلکہ سات سات سو بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ کر کے انہیں ملے گی۔ کفار اللہ کے دوست نہیں لیکن تاہم ان پر بھی ظلم نہ ہوگا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿مَنْكَفَرَ ﴾”جس نے کفر کیا“ ان میں سے ﴿فَعَلَیْهِكُفْرُهٗ﴾”تو اس کے کفر کا ضرر اسی کو ہے۔“ یعنی اس کی سزا صرف اسی کی ذات کو ملے گی اور کوئی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا ﴿وَمَنْعَمِلَصَالِحًا ﴾”اور جس نے نیک عمل کیے۔“ یعنی جو کوئی اللہ تعالیٰ اور بندوں کے حقوق واجبہ و مستحبہ ادا کرتا ہے۔ ﴿فَلِاَنْفُسِهِمْ۠﴾”تو وہ اپنے ہی لیے “ نہ کہ کسی دوسرے کے لیے ﴿یَمْهَدُوْنَ ﴾ یہ اعمال صالحہ تیار کر رہے ہیں، اپنی ہی آخرت کو آباد کر رہے ہیں، جنت کے بالاخانوں اور منازل کے حصول کے لیے اپنے آپ کو تیار کر رہے ہیں۔
بایں ہمہ ان کی جزا ان کے اعمال پر منحصر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے بے پایاں فضل اور لامحدود کرم کی بنا پر ان کو اتنی جزا دے گا جہاں تک ان کے اعمال کی رسائی ہی نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا ہے اور جب وہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے اپنے بے پایاں احسانات، عنایات فاخرہ، ظاہری اور باطنی نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے۔ اس کے برعکس، چونکہ اللہ کفار سے ناراض ہے اس لیے وہ ان کو سزا دیتا ہے اور عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی عنایت نہیں کرے گا جیسے اس نے اپنے محبوب بندوں پر کی، اس لیے فرمایا: ﴿اِنَّهٗلَایُحِبُّالْ٘كٰفِرِیْنَ ﴾”بلاشبہ اللہ تعالیٰ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فَـ {مَنْ كفر}: منهم، {فعليه كفرُهُ}: ويعاقَب هو بنفسِهِ، لا تزِرُ وازرةٌ وزرَ أخرى، {ومن عَمِلَ صالحاً}: من الحقوق التي لله والتي للعباد الواجبة والمستحبَّة {فلأنفسِهِم}: لا لغيرهم؛ {يَمْهَدونَ}؛ أي: يهيِّئون، ولأنفسهم يعمرون آخرتهم، ويستعدُّون للفوز بمنازلها وغرفاتها، ومع ذلك جزاؤهم ليس مقصوراً على أعمالهم، بل يجزيهم الله من فضلِهِ الممدود وكرمِهِ غير المحدود ما لا تبلغُهُ أعمالُهم، وذلك لأنَّه أحبَّهم، وإذا أحبَّ الله عبداً؛ صبَّ عليه الإحسان صبًّا، وأجزل له العطايا الفاخرةَ، وأنعم عليه بالنعم الظاهرة والباطنة، وهذا بخلاف الكافرين؛ فإنَّ الله لمَّا أبغضَهم ومقَتَهم؛ عاقَبَهم وعذَّبهم، ولم يَزِدْهم كما زاد من قبلهم؛ فلهذا قال: {إنَّه لا يحبُّ الكافرين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔