تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الروم (30) — آیت 43

فَاَقِمۡ وَجۡہَکَ لِلدِّیۡنِ الۡقَیِّمِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّاۡتِیَ یَوۡمٌ لَّا مَرَدَّ لَہٗ مِنَ اللّٰہِ یَوۡمَئِذٍ یَّصَّدَّعُوۡنَ ﴿۴۳﴾
پس تو اپنا چہرہ سیدھے دین کی طرف سیدھا کر لے، اس سے پہلے کہ وہ دن آئے جس کے ٹلنے کی اللہ کی طرف سے کوئی صورت نہیں، اس دن وہ جدا جدا ہو جائیں گے۔ En
تو اس روز سے پہلے جو خدا کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا دین (کے رستے) پر سیدھا منہ کئے چلے چلو اس روز (سب) لوگ منتشر ہوجائیں گے
En
پس آپ اپنا رخ اس سچے اور سیدھے دین کی طرف ہی رکھیں قبل اس کے کہ وه دن آجائے جس کا ٹل جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ہی نہیں، اس دن سب متفرق ہو جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اپنے دل، چہرے اور بدن کو سیدھے اور مستقیم دین کو قائم رکھنے پر متوجہ رکھیے۔ کوشش اور جدوجہد سے اللہ تعالیٰ کے اوامرونواہی کو نافذ کیجیے اور دین کے ظاہری اور باطنی تمام وظائف ادا کیجیے۔ اپنے زمانے، اپنی زندگی اور اپنے شباب میں جلدی سے نیک عمل کر لیجیے ﴿مِنْ قَبْلِ اَنْ یَّ٘اْتِیَ یَوْمٌ لَّا مَرَدَّ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ اس دن سے پہلے جو اللہ کی طرف سے آکر رہے گا اور رک نہیں سکے گا۔ اس سے مراد روز قیامت ہے اور جب وہ دن آ جائے گا تو اسے روکنا ممکن نہ ہو گا۔ عمل کرنے والوں کو مہلت نہ دی جائے گی کہ اپنے عمل کو نئے سرے سے انجام دیں بلکہ وہ اعمال سے فارغ ہو چکے اب تو عمل کرنے والوں کی جزا کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ ﴿یَوْمَىِٕذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ یعنی اس دن لوگ بکھر جائیں گے اور الگ الگ حاضر ہوں گے تاکہ ان کو ان کے اعمال دکھائے جائیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: أقبل بقلبك وتوجَّه بوجهِك، واسْعَ ببدنِك لإقامة الدين القيِّم المستقيم، فنفِّذْ أوامره ونواهيه بجدٍّ واجتهاد، وقمْ بوظائفِهِ الظاهرة والباطنة، وبادِرْ زمانك وحياتك وشبابك، {من قبلِ أن يأتيَ يومٌ لا مردَّ له من الله}: وهو يوم القيامةِ، الذي إذا جاء؛ لا يمكنُ ردُّه، ولا يُرجأ العاملون ليستأنفوا العمل، بل فُرِغَ من الأعمال، ولم يبقَ إلاَّ جزاءُ العمال. {يومئذٍ يَصَّدَّعون}؛ أي: يتفرَّقون عن ذلك اليوم، ويصدُرون أشتاتاً متفاوتين؛ لِيُرَوْا أعمالهم.