تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الروم (30) — آیت 42

قُلۡ سِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَانۡظُرُوۡا کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلُ ؕ کَانَ اَکۡثَرُہُمۡ مُّشۡرِکِیۡنَ ﴿۴۲﴾
کہہ دے زمین میں چلو پھرو، پھر دیکھو ان لوگوں کا انجام کیسا ہوا جو ان سے پہلے تھے، ان کے اکثر مشرک تھے۔ En
کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ (تم سے) پہلے ہوئے ہیں ان کا کیسا انجام ہوا ہے۔ ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے
En
زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ اگلوں کا انجام کیا ہوا۔ جن میں اکثر لوگ مشرک تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

زمین میں چلنے پھرنے کے حکم میں، بدنی سیر اور قلبی سیر دونوں شامل ہیں۔ قلبی سیر کا مقصد گزرے ہوئے لوگوں کے انجام پر غور و فکر ہے۔ ﴿كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّشْ٘رِكِیْنَ ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے۔ تم ان کے انجام کو بدترین انجام پاؤ گے۔ عذاب نے ان کی جڑ کاٹ کر رکھ دی اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی طرف سے مذمت، لعنت اور لگاتار رسوائی ان کا پیچھا کرتی رہی۔ پس تم بھی ان جیسے اعمال سے بچو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہی عذاب نازل ہو جائے جو ان پر نازل ہوا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا عدل اور اس کی حکمت ہر زمان و مکان میں جاری ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

والأمر بالسير في الأرض يدخُلُ فيه السير بالأبدان والسيرُ في القلوب للنظر والتأمُّل بعواقب المتقدِّمين، {كان أكثرُهُم مشركينَ}: تجِدون عاقِبَتَهم شرَّ العواقب، ومآلهم شرَّ مآلٍ: عذابٌ استأصلهم، وذمٌّ، ولعنٌ من خَلْق الله يتبعهم، وخزيٌ متواصلٌ؛ فاحذروا أن تفعلوا أفعالهم؛ يُحذى بكم حَذْوَهم؛ فإنَّ عدل الله وحكمته في كل زمان ومكان.