خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، اس کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمایا، تاکہ وہ انھیں اس کا کچھ مزہ چکھائے جو انھوں نے کیا ہے، تاکہ وہ باز آجائیں۔
En
خشکی اور تری میں لوگوں کے اعمال کے سبب فساد پھیل گیا ہے تاکہ خدا اُن کو اُن کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے عجب نہیں کہ وہ باز آجائیں
خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعﺚ فساد پھیل گیا۔ اس لئے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وه باز آجائیں۔
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
بحروبر میں فساد برپا ہو گیا، یعنی ان کی معیشت میں فساد اور اس میں کمی، ان کی معیشت پر آفات کا نزول اور خود ان کے اندر امراض اور وباؤ ں کا پھیلنا، یہ سب کچھ ان کے کرتوتوں کی پاداش اور فطری طورپر فاسد اور فساد برپا کرنے والے اعمال کے سبب سے ہے۔ یہ مذکورہ عذاب اس لیے ہے ﴿لِیُذِیْقَهُمْبَعْضَالَّذِیْعَمِلُوْا ﴾”تاکہ وہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے۔“ یعنی وہ جان لیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اعمال کی جزا دینے والا ہے۔ اس نے انھیں دنیا ہی میں ان کے اعمال کی جزا کا ایک نمونہ دکھا دیا۔ ﴿لَعَلَّهُمْیَرْجِعُوْنَ ﴾”شاید کہ وہ (اپنے ان اعمال سے) باز آ جائیں“ جن کی وجہ سے فساد برپا ہوا ہے، اس طرح ان کے احوال درست اور ان کے معاملات سیدھے ہو جائیں۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اپنی آزمائش کے ذریعے سے انعام کیا اور اپنے عذاب کے ذریعے سے احسان کیا ورنہ اگر وہ ان کے تمام کرتوتوں کی سزا کا مزہ چکھاتا تو روئے زمین پر ایک بھی جاندار نہ چھوڑتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: استعلن {الفسادُ في البرِّ والبحرِ}؛ أي: فساد معايشهم ونقصها وحلول الآفات بها وفي أنفسهم من الأمراض والوباء وغير ذلك، وذلك بسبب ما قدَّمَتْ أيديهم من الأعمال الفاسدةِ المفسدةِ بطبعها. هذه المذكورة، {لِيُذيقَهم بعضَ الذي عملوا}؛ أي: ليعلموا أنَّه المجازي على الأعمال، فعجَّل لهم نموذجاً من جزاء أعمالهم في الدنيا؛ {لعلَّهم يرجِعونَ}: عن أعمالهم التي أثَّرت لهم من الفساد ما أثَّرت، فتَصْلُحُ أحوالُهم، ويستقيمُ أمرُهم؛ فسبحان من أنعم ببلائِهِ، وتفضَّلَ بعقوبتِهِ، وإلاَّ؛ فلو أذاقهم جميعَ ما كسبوا؛ ما ترك على ظهرِها من دابَّةٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔