اس نے تمھارے لیے خودتمھی میں سے ایک مثال بیان کی ہے، کیا تمھارے لیے ان (غلاموں) میں سے جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہیں، کوئی بھی اس رزق میں شریک ہیں جو ہم نے تمھیں دیا ہے کہ تم اس میں برابر ہو ، ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح تم اپنے آپ سے ڈرتے ہو۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کے لیے کھول کر آیات بیان کرتے ہیں جو سمجھتے ہیں۔
En
وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ بھلا جن (لونڈی غلاموں) کے تم مالک ہو وہ اس (مال) میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے تمہارے شریک ہیں، اور (کیا) تم اس میں (اُن کو اپنے) برابر (مالک سمجھتے) ہو (اور کیا) تم اُن سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو، اسی طرح عقل والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک مثال خود تمہاری ہی بیان فرمائی، جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے بھی کوئی تمہارا شریک ہے؟ کہ تم اور وه اس میں برابر درجے کے ہو؟ اور تم ان کا ایسا خطره رکھتے ہو جیسا خود اپنوں کا، ہم عقل رکھنے والوں کے لئے اسی طرح کھول کھول کر آیتیں بیان کر دیتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک کی قباحت اور برائی واضح کرنے کے لیے تمھارے اپنے نفوس سے مثال دی ہے جس کو سمجھنے کے لیے سفر کرنے اور سواریاں کسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ﴿هَلْلَّـكُمْمِّنْمَّامَلَكَتْاَیْمَانُكُمْمِّنْشُ٘رَؔكَآءَفِیْمَارَزَقْنٰكُمْ ﴾”کیا تمھارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے کوئی ایسا ہے جسے تم اپنے رزق میں شریک کر سکو“ جن کے بارے میں تمھارا خیال ہو کہ وہ تمھارے برابر ہیں ﴿تَخَافُوْنَهُمْكَخِیْفَتِكُمْاَنْفُسَكُمْ ﴾”تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو؟“ یعنی جس طرح حقیقی آزاد شریک اور اس کی تقسیم سے خوف آتا ہے کہ کہیں وہ تمام مال اپنے لیے مختص نہ کر لے۔ معاملہ ایسے نہیں کیونکہ تمھارے غلاموں میں سے کوئی غلام تمھارے اس رزق میں شریک نہیں بن سکتا جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے... حالانکہ تم نے ان کو پیدا نہیں کیا ہے نہ تم ان کو رزق دیتے ہو، نیز وہ بھی تمھاری طرح مملوک ہیں… پھر کیونکر تم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اس کا شریک بنانے پر راضی ہوتے ہو اور اس کو عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ہم مرتبہ اور اس کے برابر قرار دیتے ہو، حالانکہ تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر قرار دینے پر راضی نہیں ہو۔ یہ سب سے زیادہ عجیب چیز ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتا ہے اس کی سفاہت و حماقت پر سب سے بڑی دلیل ہے، نیز اس نے جس چیز کو معبود بنایا ہے وہ باطل اور کمزور ہے وہ اللہ تعالیٰ کے برابر نہیں ہو سکتی اور نہ وہ کسی قسم کی عبادت کی مستحق ہے۔
﴿كَذٰلِكَنُفَصِّلُالْاٰیٰتِ ﴾”ہم اسی طرح آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔“ یعنی مثالوں کے ذریعے سے ان آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ﴿لِقَوْمٍیَّعْقِلُوْنَ ﴾”ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔“ جو حقائق میں غور کر کے ان کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ رہا وہ شخص جو عقل سے کام نہیں لیتا اگر اس کے سامنے آیات کو کھول کھول کر بیان کر دیا جائے اور دلائل کو واضح کر دیا جائے تو اس کے پاس اتنی عقل ہی نہیں کہ اس کے ذریعے سے بات کی توضیح و تبیین کو سمجھ سکے... عقل مند لوگوں ہی کے سامنے کلام پیش کیا جاتا ہے اور انھیں خطاب کیا جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا مثلٌ ضربَه الله لِقُبح الشرك وتهجينه، مثلاً من أنفسكم لا يحتاجُ إلى حلٍّ وترحال وإعمال الجِمال. {هل لكم ممَّا ملكتْ أيمانُكم من شُرَكاء فيما رَزَقْناكم}؛ أي: هل أحدٌ من عبيدكم وإمائِكم الأرقاءِ يشارِكُكم في رزقكم، وتَرَوْنَ أنَّكم وهم فيه على حدٍّ سواء. {تخافونَهم كخيفَتِكم أنفسَكُم}؛ أي: كالأحرار الشركاء في الحقيقة، الذين يُخاف من قسمه واختصاص كل شيء بحاله؟! ليس الأمر كذلك؛ فإنَّه ليس أحدٌ مما ملكت أيمانُكم شريكاً لكم فيما رَزَقَكم الله تعالى، هذا؛ ولستُم الذين خَلَقْتُموهم ورزَقْتُموهم، وهم أيضاً مماليكُ مثلُكم؛ فكيفَ تَرْضَوْنَ أن تجعلوا لله شريكاً من خلقه، وتجعلونَه بمنزلتِهِ وعديلاً له في العبادة، وأنتُم لا تَرْضَوْنَ مساواة مماليككم لكم؟! هذا من أعجب الأشياء، ومن أدلِّ شيءٍ على سَفَهِ من اتَّخذ شريكاً مع الله، وأنَّ ما اتَّخذه باطل مضمحلٌّ، ليس مساوياً لله ولا له من العبادة شيء. {كذلك نفصِّلُ الآيات}: بتوضيحها بأمثلتها {لقوم يَعْقِلونَ}: الحقائقَ ويعرِفون. وأمَّا مَنْ لا يعقِلُ؛ فلو فُصلت له الآياتُ وبينتْ له البيِّناتُ؛ لم يكن له عقلٌ يبصِرُ به ما تبيَّن، ولا لبٌّ يعقِل به ما توضَّح؛ فأهلُ العقول والألباب هم الذين يُساق إليهم الكلام، ويوجَّه الخطاب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔