بلکہ وہ لوگ جنھوں نے ظلم کیا وہ جانے بغیر اپنی خواہشوں کے پیچھے چل پڑے، پھر اسے کون راہ پر لائے جسے اللہ نے گمراہ کر دیا ہو اور ان کے لیے کوئی مدد کرنے والے نہیں ہیں۔
En
مگر جو ظالم ہیں بےسمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں تو جس کو خدا گمراہ کرے اُسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟ اور ان کا کوئی مددگار نہیں
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب اس مثال سے یہ بات واضح ہو گئی کہ جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک بناتا ہے، پھر اس کی عبادت کرتا ہے اور اپنے معاملات میں اس پر بھروسہ کرتا ہے، تو وہ حق پر نہیں تو وہ کون سی چیز ہے جو انھیں ایک امر باطل پر اقدام کے لیے آمادہ کرتی ہے جس کا بطلان اس کے لیے واضح اور اس کی دلیل ظاہر ہوچکی ہے؟ یقینا ان کی خواہشات نفس ان کے اس اقدام کی موجب ہیں، اس لیے فرمایا: ﴿بَلِاتَّ٘بَعَالَّذِیْنَظَلَمُوْۤااَهْوَآءَؔهُمْبِغَیْرِعِلْمٍ ﴾”مگر جو ظالم ہیں وہ بے سمجھے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتے ہیں۔“ ان کے ناقص نفس، جس کا نقص ان امور میں ظاہر ہوچکا ہے جن کا تعلق خواہشات نفس سے ہے، ایسی بات چاہتے ہیں جس کو عقل اور فطرت نے فاسد قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ ان کے پاس کوئی ایسی دلیل و برہان نہیں جو اس کی طرف ان کی راہنمائی کرتی ہو۔
﴿فَ٘مَنْیَّهْدِیْمَنْاَضَلَّاللّٰهُ ﴾”پس جسے اللہ گمراہ کردے اسے کون ہدایت دے سکتا ہے؟“ یعنی ان کی عدم ہدایت پر تعجب نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے ظلم کی پاداش میں گمراہ کر دیا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اس کی ہدایت کا کوئی راستہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اقتدار میں کوئی اس کا مدمقابل ہے نہ کوئی مخالف۔ ﴿وَمَالَهُمْمِّنْنّٰ٘صِرِیْنَ ﴾ جب وہ عذاب کے مستحق قرار دے دیے جائیں گے تو کوئی ان کا مددگار نہ ہوگا جو ان کی مدد کر سکے اور ان کے تمام اسباب منقطع ہو جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وإذا عُلِمَ من هذا المثال أنَّ من اتَّخذ من دون الله شريكاً يعبُدُه ويتوكَّل عليه في أموره؛ فإنه ليس معه من الحقِّ شيءٌ؛ فما الذي أوجبَ لهم الإقدامَ على أمرٍ باطل توضَّح بطلانُه وظهر برهانُه؟ أوجب لهم ذلك اتِّباع الهوى، فلهذا قال: {بل اتَّبَعَ الذين ظَلَموا أهواءَهم بغيرِ علم}: هويت أنفسُهم الناقصةُ التي ظهر من نقصها ما تعلَّق به هواها أمراً يجزِمُ العقل بفسادِهِ والفِطَرُ بردِّه بغير علم دلَّهم عليه ولا برهان قادَهُم إليه، {فمن يهدي مَن أضلَّ الله}؛ أي: لا تعجبوا من عدم هدايتهم؛ فإنَّ الله تعالى أضلَّهم بظلمهم، ولا طريقَ لهداية من أضلَّ الله؛ لأنَّه ليس أحدٌ معارضاً لله أو منازعاً له في ملكه، {ومالهم من ناصِرينَ}: ينصُرونَهم حين تحقُّ عليهم كلمةُ العذاب، وتنقطِعُ بهم الوصل والأسباب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔