ترجمہ و تفسیر — سورۃ الروم (30) — آیت 28

ضَرَبَ لَکُمۡ مَّثَلًا مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ ؕ ہَلۡ لَّکُمۡ مِّنۡ مَّا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ مِّنۡ شُرَکَآءَ فِیۡ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ فَاَنۡتُمۡ فِیۡہِ سَوَآءٌ تَخَافُوۡنَہُمۡ کَخِیۡفَتِکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۸﴾
اس نے تمھارے لیے خودتمھی میں سے ایک مثال بیان کی ہے، کیا تمھارے لیے ان (غلاموں) میں سے جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ ہیں، کوئی بھی اس رزق میں شریک ہیں جو ہم نے تمھیں دیا ہے کہ تم اس میں برابر ہو ، ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح تم اپنے آپ سے ڈرتے ہو۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کے لیے کھول کر آیات بیان کرتے ہیں جو سمجھتے ہیں۔ En
وہ تمہارے لئے تمہارے ہی حال کی ایک مثال بیان فرماتا ہے کہ بھلا جن (لونڈی غلاموں) کے تم مالک ہو وہ اس (مال) میں جو ہم نے تم کو عطا فرمایا ہے تمہارے شریک ہیں، اور (کیا) تم اس میں (اُن کو اپنے) برابر (مالک سمجھتے) ہو (اور کیا) تم اُن سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو، اسی طرح عقل والوں کے لئے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں
En
اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ایک مثال خود تمہاری ہی بیان فرمائی، جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے کیا اس میں تمہارے غلاموں میں سے بھی کوئی تمہارا شریک ہے؟ کہ تم اور وه اس میں برابر درجے کے ہو؟ اور تم ان کا ایسا خطره رکھتے ہو جیسا خود اپنوں کا، ہم عقل رکھنے والوں کے لئے اسی طرح کھول کھول کر آیتیں بیان کر دیتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28) ➊ { ضَرَبَ لَكُمْ مَّثَلًا مِّنْ اَنْفُسِكُمْ …:} یہاں تک توحید اور آخرت کا بیان ملا جلا آ رہا تھا، اب خالص توحید پر کلام شروع ہو رہا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے شرک کے باطل ہونے کی مثال خود تمھاری ذات سے بیان فرمائی، تاکہ تمھیں کہیں دور نہ جانا پڑے۔ اپنے بارے میں یہی غور کر لو کہ تمھارے غلام جو تمھاری ملکیت میں ہیں، کیا ان میں سے کوئی بھی اس رزق میں تمھارا شریک ہے جو ہم نے تمھیں عطا کیا ہے کہ وہ اور تم اس کے مالک ہونے میں برابر ہو جاؤ اور اپنے اس غلام سے اسی طرح ڈرو جیسے تم آزاد لوگ ایک دوسرے سے ڈرتے ہو؟ جواب ظاہر ہے کہ ہر گز نہیں، غلام آقاکے اور مملوک مالک کے برابر کبھی نہیں ہو سکتا۔ تو پھر جب تم مانتے ہو کہ آسمان و زمین اور ان میں موجود ہر مخلوق، فرشتے، انسان، جنّ، انبیاء، اولیاء اور صلحاء، حجر، شجر اور بت وغیرہ سب کا مالک اللہ ہے اور وہ سب اللہ کی ملکیت ہیں اور تم خود اپنے غلاموں کو (جو انسان ہونے میں تمھارے برابر ہیں) اپنے اختیارات دے کر اپنے شریک اور اپنے برابر بنانے کے لیے تیار نہیں تو تم نے مخلوق کو خالق کا اور مملوک کو مالک کا شریک کیسے بنا لیا جو اللہ تعالیٰ کے کسی بھی طرح برابر نہیں؟ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے لیے یہ مثال اس لیے بیان فرمائی کہ وہ اپنے بنائے ہوئے معبودوں کو بھی اللہ ہی کی ملکیت مانتے تھے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ مشرکین کہتے تھے: [لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ] حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: [وَيْلَكُمْ، قَدْ قَدْ] تم پر افسوس! بس کرو، بس کرو۔ مگر وہ کہتے: [إِلاَّ شَرِيْكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَ مَا مَلَكَ] [مسلم، الحج، باب التلبیۃ و صفتھا …: ۱۱۸۵] مگر تیرا ایک شریک ہے جس کا مالک تو ہے اور ان چیزوں کا بھی جن کا وہ مالک ہے۔
➋ {كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ:} یعنی ہم ایسے ہی مثالوں کے ساتھ اور خوب کھول کھول کر آیات بیان کرتے ہیں، ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

28-1یعنی جب تم یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے غلام اور نوکر چاکر جو تمہارے ہی جیسے انسان ہیں وہ تمہارے مال و دولت میں شریک اور تمہارے برابر ہوجائیں تو پھر یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اللہ کے بندے چاہے وہ فرشتے ہوں پیغمبر ہوں اولیا وصلحا ہوں یا شجر وحجر کے بنائے ہوئے معبود، وہ اللہ کے ساتھ شریک ہوجائیں جب کہ وہ بھی اللہ کے غلام اور اس کی مخلوق ہیں؟ یعنی جس طرح پہلی بات نہیں ہوسکتی، دوسری بھی نہیں ہوسکتی۔ اس لیے اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کرنا اور انھیں بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنا یکسر غلط ہے۔ 28-2یعنی کیا تم اپنے غلاموں سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح تم (آزاد لوگ) آپس میں ایک دوسرے سے ڈرتے ہو۔ یعنی جس طرح مشترکہ کاروبار یا جائیداد میں خرچ کرتے ہوئے ڈر محسوس ہوتا ہے کہ دوسرے شریک باز پرس کریں گے۔ کیا تم اپنے غلاموں سے اس طرح ڈرتے ہو؟ یعنی نہیں ڈرتے۔ کیونکہ تم انھیں مال و دولت میں شریک قرار دے کر اپنا ہم رتبہ بنا ہی نہیں سکتے تو اس سے ڈر بھی کیسا۔28-3کیونکہ وہ اپنی عقلوں کو استعمال میں لا کر اور غور و فکر کا اہتمام کر کے آیات تنزیلیہ اور تکوینیہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور جو ایسا نہیں کرتے، ان کی سمجھ میں توحید کا مسئلہ بھی نہیں آتا جو بالکل صاف اور نہایت واضح ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ اللہ تمہارے لیے ایک مثال بیان کرتا ہے جو خود تمہی سے تعلق رکھتی ہے۔ تمہارے کچھ غلام ہوں اور جو کچھ ہم نے تمہیں مال و دولت دے رکھا ہے اس میں تم اور وہ غلام برابر کے شریک ہو جائیں تو کیا تم ایسا گوارا کر سکتے ہو؟ تم تو ان سے ایسے ہی ڈرو گے جیسے اپنے ہمسروں [28] سے ڈرتے ہو۔ سمجھنے سوچنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ ایسے ہی اپنی آیات کھول کر بیان کرتا ہے۔
[28] شرک کیسے بہت بڑی بے انصافی ہے؟ ایک مثال سے وضاحت:۔
یعنی یہ مثال تمہارے حسب حال ہے جس سے بات بآسانی تمہاری سمجھ میں آسکتی ہے۔ مثال یہ ہے کہ فرض کرو تمہارے کچھ غلام ہیں۔ کیا تم ان غلاموں میں اپنا مال و دولت تقسیم کر سکتے ہو کہ وہ تمہارے ہمسر بن جائیں۔ تم تو اس بات سے اس طرح خائف ہو جاؤ گے جیسے تم اپنے ان بھائی بندوں سے ڈرتے ہو جو تمہاری جائیداد میں پہلے سے شریک ہیں۔ اگر تم اس مشترکہ جائیداد میں کچھ تصرف کرنے لگو تو وہ تمہیں روک بھی سکتے ہیں۔ تمہارا محاسبہ بھی کر سکتے ہیں اور مشترکہ جائیداد کو تقسیم کرنے کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔ اب اگر تم اپنے غلاموں کو اپنی جائیداد میں برابر کا شریک بنالو۔ تو ان کے تمہارا غلام ہونے کے باوجود تمہیں ضرور ان سے ایسے ہی خطرات لاحق ہو جائیں گے اور تم یہ کام کبھی گوارا نہ کرو گے۔ حالانکہ تمہارے یہ غلام انسانیت کے لحاظ سے تمہارے بھائی بند اور برابر درجہ کے لوگ ہیں۔ اب جو بات تم اپنے لئے گوارا نہیں کر سکتے وہ اللہ کے لئے کیسے گوارا کر لیتے ہو کہ اللہ کی مخلوق کو جو نوع کے لحاظ سے بھی اس کے مساوی نہیں بلکہ اس کی مخلوق اور مملوک ہے، اللہ کے اختیارات میں شریک قرار دے دیا جائے؟ یہ کیسی دھاندلی کی تقسیم ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اپنے دلوں میں جھانکو! ٭٭
مشرکین مکہ اپنے بزرگوں کو شریک اللہ جانتے تھے لیکن ساتھ ہی یہ بھی مانتے تھے کہ یہ سب اللہ کے غلام اور اس کے ماتحت ہیں۔ چنانچہ وہ حج وعمرے کے موقعہ پر لبیک پکارتے ہوئے کہتے تھے کہ (‏‏‏‏[ «لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، إِلَّا شَرِيكًا هُوَ لَكَ، تَمْلِكُهُ وَمَا مَلَكَ» ]‏‏‏‏) یعنی ہم تیرے دربار میں حاضر ہیں تیرا کوئی شریک نہیں مگر وہ کہ وہ خود اور جس چیز کا وہ مالک ہے سب تیری ملکیت میں ہے۔
یعنی ہمارے شریکوں کا اور ان کی ملکیت کا تو ہی اصلی مالک ہے۔ پس یہاں انہیں ایک ایسی مثال سے سمجھایا جا رہا ہے جو خود یہ اپنے نفس ہی میں پائیں۔ اور بہت اچھی طرح غور وخوض کر سکیں۔
فرماتا ہے کہ ’ کیا تم میں سے کوئی بھی اس امر پر رضا مند ہو گا کہ اس کے کل مال وغیرہ میں اس کے غلام اس کے برابر کے شریک ہوں اور ہر وقت اسے یہ دھڑ کا رہتا ہو کہ کہیں وہ تقسیم کرکے میری جائیداد اور ملکیت آدھوں آدھ بانٹ نہ لے جائیں ‘۔
پس جس طرح تم یہ بات اپنے لیے پسند نہیں کرتے اللہ کے لیے بھی نہ چاہو جس طرح غلام آقا کی ہمسری نہیں کر سکتا اسی طرح اللہ کا کوئی بندہ اللہ کا شریک نہیں ہوسکتا۔ یہ عجب ناانصافی ہے کہ اپنے لیے جس بات سے چڑیں اور نفرت کریں اللہ کے لیے وہی بات ثابت کرنے بیٹھ جائیں۔ خود بیٹیوں سے جلتے تھے، اتنا سنتے ہی کہ تیرے ہاں لڑکی ہوئی ہے منہ کالے پڑجاتے تھے اور اللہ کے مقرب فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں کہتے تھے۔ اسی طرح خود اس بات کے کبھی رودار نہیں ہونے کہ اپنے غلاموں کو اپنا برابر کا شریک و سہیم سمجھیں۔ لیکن اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک سمجھ رہے ہیں کس قدر انصاف کا خون ہے؟
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مشرک جو لبیک پکارتے تھے اور اس میں اللہ کے لا شریک ہونے کا اقرار کرکے پھر اس کی غلامی تلے دوسروں کو مان کر انہیں اس کا شریک ٹھہراتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔‏‏‏‏ ۱؎ [طبرانی کبیر:12348:ضعیف]‏‏‏‏ اور اس میں بیان ہے کہ ’ جب تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر کا شریک ٹھہرانے سے عار رکھتے ہو تو اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک کیوں ٹھہرا رہے ہو؟ ‘۔
یہ صاف بات بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ’ ہم اسی طرح تفصیل وار دلائل غافلوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے اور بتلاتا ہے کہ ’ مشرکین کے شرک کی کوئی سند، عقلی، نقلی کوئی دلیل نہیں صرف کرشمہ جہالت اور پیروی خواہش ہے۔ جبکہ یہ راہ راست سے ہٹ گئے تو پھر انہیں اللہ کے سوا اور کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا ‘۔
یہ گو دوسروں کا اپنا کارساز اور مددگار مانتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ دشمنان اللہ کا دوست کوئی نہیں۔ کون ہے جو اس کی مرضی کے خلاف لب ہلا سکے۔ کون ہے جو اس پر مہربانی کرے جس پر اللہ نامہربان ہو؟ جو وہ چاہے وہی ہوتا ہے اور جسے وہ نہ چاہے ہو نہیں سکتا۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے شرک کی قباحت اور برائی واضح کرنے کے لیے تمھارے اپنے نفوس سے مثال دی ہے جس کو سمجھنے کے لیے سفر کرنے اور سواریاں کسنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ﴿هَلْ لَّـكُمْ مِّنْ مَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ مِّنْ شُ٘رَؔكَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰكُمْ کیا تمھارے غلاموں اور لونڈیوں میں سے کوئی ایسا ہے جسے تم اپنے رزق میں شریک کر سکو جن کے بارے میں تمھارا خیال ہو کہ وہ تمھارے برابر ہیں ﴿تَخَافُوْنَهُمْ كَخِیْفَتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح اپنوں سے ڈرتے ہو؟ یعنی جس طرح حقیقی آزاد شریک اور اس کی تقسیم سے خوف آتا ہے کہ کہیں وہ تمام مال اپنے لیے مختص نہ کر لے۔ معاملہ ایسے نہیں کیونکہ تمھارے غلاموں میں سے کوئی غلام تمھارے اس رزق میں شریک نہیں بن سکتا جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے... حالانکہ تم نے ان کو پیدا نہیں کیا ہے نہ تم ان کو رزق دیتے ہو، نیز وہ بھی تمھاری طرح مملوک ہیں… پھر کیونکر تم اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو اس کا شریک بنانے پر راضی ہوتے ہو اور اس کو عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ہم مرتبہ اور اس کے برابر قرار دیتے ہو، حالانکہ تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر قرار دینے پر راضی نہیں ہو۔ یہ سب سے زیادہ عجیب چیز ہے اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دیتا ہے اس کی سفاہت و حماقت پر سب سے بڑی دلیل ہے، نیز اس نے جس چیز کو معبود بنایا ہے وہ باطل اور کمزور ہے وہ اللہ تعالیٰ کے برابر نہیں ہو سکتی اور نہ وہ کسی قسم کی عبادت کی مستحق ہے۔
﴿كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ ہم اسی طرح آیات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں۔ یعنی مثالوں کے ذریعے سے ان آیات کو کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ﴿لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ان لوگوں کے لیے جو عقل رکھتے ہیں۔ جو حقائق میں غور کر کے ان کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ رہا وہ شخص جو عقل سے کام نہیں لیتا اگر اس کے سامنے آیات کو کھول کھول کر بیان کر دیا جائے اور دلائل کو واضح کر دیا جائے تو اس کے پاس اتنی عقل ہی نہیں کہ اس کے ذریعے سے بات کی توضیح و تبیین کو سمجھ سکے... عقل مند لوگوں ہی کے سامنے کلام پیش کیا جاتا ہے اور انھیں خطاب کیا جاتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا مثلٌ ضربَه الله لِقُبح الشرك وتهجينه، مثلاً من أنفسكم لا يحتاجُ إلى حلٍّ وترحال وإعمال الجِمال. {هل لكم ممَّا ملكتْ أيمانُكم من شُرَكاء فيما رَزَقْناكم}؛ أي: هل أحدٌ من عبيدكم وإمائِكم الأرقاءِ يشارِكُكم في رزقكم، وتَرَوْنَ أنَّكم وهم فيه على حدٍّ سواء. {تخافونَهم كخيفَتِكم أنفسَكُم}؛ أي: كالأحرار الشركاء في الحقيقة، الذين يُخاف من قسمه واختصاص كل شيء بحاله؟! ليس الأمر كذلك؛ فإنَّه ليس أحدٌ مما ملكت أيمانُكم شريكاً لكم فيما رَزَقَكم الله تعالى، هذا؛ ولستُم الذين خَلَقْتُموهم ورزَقْتُموهم، وهم أيضاً مماليكُ مثلُكم؛ فكيفَ تَرْضَوْنَ أن تجعلوا لله شريكاً من خلقه، وتجعلونَه بمنزلتِهِ وعديلاً له في العبادة، وأنتُم لا تَرْضَوْنَ مساواة مماليككم لكم؟! هذا من أعجب الأشياء، ومن أدلِّ شيءٍ على سَفَهِ من اتَّخذ شريكاً مع الله، وأنَّ ما اتَّخذه باطل مضمحلٌّ، ليس مساوياً لله ولا له من العبادة شيء. {كذلك نفصِّلُ الآيات}: بتوضيحها بأمثلتها {لقوم يَعْقِلونَ}: الحقائقَ ويعرِفون. وأمَّا مَنْ لا يعقِلُ؛ فلو فُصلت له الآياتُ وبينتْ له البيِّناتُ؛ لم يكن له عقلٌ يبصِرُ به ما تبيَّن، ولا لبٌّ يعقِل به ما توضَّح؛ فأهلُ العقول والألباب هم الذين يُساق إليهم الكلام، ويوجَّه الخطاب.