تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ:} یعنی ہم ایسے ہی مثالوں کے ساتھ اور خوب کھول کھول کر آیات بیان کرتے ہیں، ان لوگوں کے لیے جو سمجھتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یعنی ہمارے شریکوں کا اور ان کی ملکیت کا تو ہی اصلی مالک ہے۔ پس یہاں انہیں ایک ایسی مثال سے سمجھایا جا رہا ہے جو خود یہ اپنے نفس ہی میں پائیں۔ اور بہت اچھی طرح غور وخوض کر سکیں۔
فرماتا ہے کہ ’ کیا تم میں سے کوئی بھی اس امر پر رضا مند ہو گا کہ اس کے کل مال وغیرہ میں اس کے غلام اس کے برابر کے شریک ہوں اور ہر وقت اسے یہ دھڑ کا رہتا ہو کہ کہیں وہ تقسیم کرکے میری جائیداد اور ملکیت آدھوں آدھ بانٹ نہ لے جائیں ‘۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”مشرک جو لبیک پکارتے تھے اور اس میں اللہ کے لا شریک ہونے کا اقرار کرکے پھر اس کی غلامی تلے دوسروں کو مان کر انہیں اس کا شریک ٹھہراتے تھے اس پر یہ آیت اتری۔“ ۱؎ [طبرانی کبیر:12348:ضعیف] اور اس میں بیان ہے کہ ’ جب تم اپنے غلاموں کو اپنے برابر کا شریک ٹھہرانے سے عار رکھتے ہو تو اللہ کے غلاموں کو اللہ کا شریک کیوں ٹھہرا رہے ہو؟ ‘۔
یہ صاف بات بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ ’ ہم اسی طرح تفصیل وار دلائل غافلوں کے سامنے رکھ دیتے ہیں ‘۔ پھر فرماتا ہے اور بتلاتا ہے کہ ’ مشرکین کے شرک کی کوئی سند، عقلی، نقلی کوئی دلیل نہیں صرف کرشمہ جہالت اور پیروی خواہش ہے۔ جبکہ یہ راہ راست سے ہٹ گئے تو پھر انہیں اللہ کے سوا اور کوئی راہ راست پر لا نہیں سکتا ‘۔
یہ گو دوسروں کا اپنا کارساز اور مددگار مانتے ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ دشمنان اللہ کا دوست کوئی نہیں۔ کون ہے جو اس کی مرضی کے خلاف لب ہلا سکے۔ کون ہے جو اس پر مہربانی کرے جس پر اللہ نامہربان ہو؟ جو وہ چاہے وہی ہوتا ہے اور جسے وہ نہ چاہے ہو نہیں سکتا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا مثلٌ ضربَه الله لِقُبح الشرك وتهجينه، مثلاً من أنفسكم لا يحتاجُ إلى حلٍّ وترحال وإعمال الجِمال. {هل لكم ممَّا ملكتْ أيمانُكم من شُرَكاء فيما رَزَقْناكم}؛ أي: هل أحدٌ من عبيدكم وإمائِكم الأرقاءِ يشارِكُكم في رزقكم، وتَرَوْنَ أنَّكم وهم فيه على حدٍّ سواء. {تخافونَهم كخيفَتِكم أنفسَكُم}؛ أي: كالأحرار الشركاء في الحقيقة، الذين يُخاف من قسمه واختصاص كل شيء بحاله؟! ليس الأمر كذلك؛ فإنَّه ليس أحدٌ مما ملكت أيمانُكم شريكاً لكم فيما رَزَقَكم الله تعالى، هذا؛ ولستُم الذين خَلَقْتُموهم ورزَقْتُموهم، وهم أيضاً مماليكُ مثلُكم؛ فكيفَ تَرْضَوْنَ أن تجعلوا لله شريكاً من خلقه، وتجعلونَه بمنزلتِهِ وعديلاً له في العبادة، وأنتُم لا تَرْضَوْنَ مساواة مماليككم لكم؟! هذا من أعجب الأشياء، ومن أدلِّ شيءٍ على سَفَهِ من اتَّخذ شريكاً مع الله، وأنَّ ما اتَّخذه باطل مضمحلٌّ، ليس مساوياً لله ولا له من العبادة شيء. {كذلك نفصِّلُ الآيات}: بتوضيحها بأمثلتها {لقوم يَعْقِلونَ}: الحقائقَ ويعرِفون. وأمَّا مَنْ لا يعقِلُ؛ فلو فُصلت له الآياتُ وبينتْ له البيِّناتُ؛ لم يكن له عقلٌ يبصِرُ به ما تبيَّن، ولا لبٌّ يعقِل به ما توضَّح؛ فأهلُ العقول والألباب هم الذين يُساق إليهم الكلام، ويوجَّه الخطاب.