تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 196

لَا یَغُرَّنَّکَ تَقَلُّبُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فِی الۡبِلَادِ ﴿۱۹۶﴾ؕ
تجھے ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا ہرگز دھوکے میں نہ ڈالے جنھوں نے کفر کیا۔ En
(اے پیغمبر) کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکا نہ دے
En
تجھے کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا فریب میں نہ ڈال دے، En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کو اس بارے میں تسلی دینا مقصود ہے کہ کفار کو جو دنیا کی نعمتیں، دنیا کی متاع، شہروں پر ان کا تصرف، مختلف قسم کی تجارتیں، مکاسب، انواع و اقسام کی لذات، اقتدار کی مختلف صورتیں اور بعض اوقات اہل ایمان پر ان کا غلبہ یہ تمام چیزیں:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذه الآية المقصود منها التسلية عما يحصل للذين كفروا من متاع الدنيا وتنعمهم فيها، وتقلبهم في البلاد بأنواع التجارات والمكاسب واللذات وأنواع العز والغلبة في بعض الأوقات، فإن هذا كله: