تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 197

مَتَاعٌ قَلِیۡلٌ ۟ ثُمَّ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمِہَادُ ﴿۱۹۷﴾
تھوڑا سا فائدہ ہے، پھر ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ برا بچھوناہے۔ En
(یہ دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ ہے پھر (آخرت میں) تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے
En
یہ تو بہت ہی تھوڑا فائده ہے، اس کے بعد ان کا ٹھکانہ تو جہنم ہے اور وه بری جگہ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ مَتَاعٌ قَلِیْلٌ بہت ہی تھوڑا فائدہ ہے بے ثبات ہیں باقی رہنے والی نہیں ہیں۔ بلکہ حقیقت حال یہ ہے کہ وہ اس متاع قلیل سے بہت تھوڑا فائدہ اٹھائیں گے اور اس کی وجہ سے بہت ہی طویل عذاب بھگتیں گے۔ یہ کافر کی بلند ترین حالت ہے اور آپ نے دیکھ لیا ہے کہ اس کا ٹھکانا کیا ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{متاع قليل} ليس له ثبوت ولا بقاء، بل يتمتعون به قليلاً ويعذبون عليه طويلاً، هذه أعلى حالة تكون للكافر، وقد رأيت ما تؤول إليه.