تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 16

اَلَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿ۚ۱۶﴾
جو کہتے ہیں اے ہمارے رب! بے شک ہم ایمان لے آئے، سو ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ En
جو خدا سے التجا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو ہمارے گناہ معاف فرما اور دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ
En
جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان ﻻ چکے اس لئے ہمارے گناه معاف فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور اپنی دعاؤں میں کہا: ﴿رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْ٘فِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ اے ہمارے رب! ہم ایمان لاچکے، اس لیے ہمارے گناہ معاف فرما۔ اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔انھوں نے اللہ کے اس احسان کا ذکر کیا کہ اس نے انھیں ایمان کی توفیق دی ہے اور اس کے وسیلے سے یہ دعا کی کہ وہ ان کے گناہ معاف کردے۔ اور گناہوں کے برے اثرات و نتائج یعنی جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: هؤلاء الراسخون في العلم أهل العلم والإيمان يتوسلون إلى ربهم بإيمانهم لمغفرة ذنوبهم ووقايتهم عذاب النار، وهذا من الوسائل التي يحبها الله أن يتوسل العبد إلى ربه بما منَّ به عليه من الإيمان والأعمال الصالحة إلى تكميل نعم الله عليه بحصول الثواب الكامل واندفاع العقاب.