کہہ دے کیا میں تمھیں اس سے بہتر چیز بتائوں، جو لوگ متقی بنے ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور نہایت پاک صاف بیویاں اور اللہ کی جانب سے عظیم خوشنودی ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والاہے۔
En
(اے پیغمبر ان سے) کہو کہ بھلا میں تم کو ایسی چیز بتاؤں جو ان چیزوں سے کہیں اچھی ہو (سنو) جو لوگ پرہیزگار ہیں ان کے لیے خدا کے ہاں باغات (بہشت) ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ عورتیں ہیں اور (سب سے بڑھ کر) خدا کی خوشنودی اور خدا (اپنے نیک) بندوں کو دیکھ رہا ہے
آپ کہہ دیجئے! کیا میں تمہیں اس سے بہت ہی بہتر چیز بتاؤں؟ تقویٰ والوں کے لئے ان کے رب تعالیٰ کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزه بیویاں اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے، سب بندے اللہ تعالیٰ کی نگاه میں ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ موضوع اس طرح مکمل ہوا ہے کہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دارالقرار (ہمیشہ رہنے والا گھر) اور نیک متقیوں کا انجام بیان فرمایا ہے، اور بتایا ہے کہ یہ اُخروی نعمتیں ان مذکورہ (دنیوی) اشیاء سے بہتر ہیں۔ یعنی بلند و بالا درختوں کے باغات، جن میں نفیس محلات، اور اونچے اونچے بالاخانے ہیں، طرح طرح کے پھلوں سے لدے ہوئے پھل دار درخت ہیں، ان کی مرضی کے مطابق چلنے والی نہریں ہیں، ہر ظاہری و باطنی عیب و نجاست سے پاک بیویاں ہیں، اور ان تمام نعمتوں کے ساتھ ہمیشہ کی زندگی، یہ نعمتوں کی انتہا ہے اور پھر اللہ کی خوشنودی جس سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ ذرا اس شان دار جہان کا اس حقیر جہان سے مقابلہ و موازنہ تو کیجیے۔ پھر اپنے لیے بہتر متبادل کا انتخاب کرلیجیے۔ اپنے دل کو ان دونوں کا فرق سمجھایئے۔ ﴿وَاللّٰهُبَصِیْرٌۢبِالْعِبَادِ﴾”سب بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں۔“ وہ ان کے تمام اچھے اور برے اوصاف سے باخبر ہے۔ اسے معلوم ہے کہ ان کے حالات کے مطابق کون سا نتیجہ ان کے لائق ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے توفیق دے دیتا ہے۔ وہ جنت جس کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے اور اس کی کامل صفات بیان فرمائی ہیں وہ بھی انھیں ملے گی جو اس کے مستحق ہیں، یعنی جنھوں نے اللہ سے ڈرتے ہوئے حکموں کی تعمیل کی اور ممنوع کاموں سے پرہیز کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم أخبر عن ذلك بأن المتقين لله القائمين بعبوديته لهم خير من هذه اللذات، فلهم أصناف الخيرات والنعيم المقيم مما لا عين رأت ولا أذن سمعت ولا خطر على قلب بشر، ولهم رضوان الله الذي هو أكبر من كل شيء، ولهم الأزواجُ المطهرةُ من كل آفة ونقص، جميلاتُ الأخلاق كاملاتُ الخلائق، لأن النفي يستلزم ضده، فتطهيرها من الآفات مستلزم لوصفها بالكمالات.
{والله بصير بالعباد}؛ فييسر كلًّا منهم لما خلق له، أما أهل السعادة فييسرهم للعمل لهذه الدار الباقية ويأخذون من هذه الحياة الدنيا ما يعينهم على عبادة الله وطاعته، وأما أهل الشقاوة والإعراض فيقيضهم لعمل أهل الشقاوة، ويرضون بالحياة الدنيا، ويطمئنون بها، ويتخذونها قراراً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔