اور ان کی بات اس کے سوا کچھ نہ تھی کہ انھوں نے کہا اے ہمارے رب! ہمیں ہمارے گناہ بخش دے اور ہمارے کام میں ہماری زیادتی کو بھی اور ہمارے قدم ثابت رکھ اور کافر لوگوں پر ہماری مدد فرما۔
En
اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی ہے تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما
وه یہی کہتے رہے کہ اے پروردگار! ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہم سے ہمارے کاموں میں جو بے جا زیادتی ہوئی ہے اسے بھی معاف فرما اور ہمیں ﺛابت قدمی عطا فرما اور ہمیں کافروں کی قوم پر مدد دے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان کی اس دعا کا ذکر فرمایا جس میں انھوں نے اپنے رب سے فتح و نصرت طلب کی ہے۔ ﴿وَمَاكَانَقَوْلَهُمْ﴾ یعنی ان انتہائی مشکل مقامات پر ان کا یہی قول تھا۔ ﴿اِلَّاۤاَنْقَالُوْارَبَّنَااغْ٘فِرْلَنَاذُنُوْبَنَاوَاِسْرَافَنَافِیْۤاَمْرِنَا﴾”اے ہمارے رب! ہمارے گناہ اور وہ زیادتیاں جو ہمارے معاملے میں ہم سے سرزد ہوئی ہیں بخش دے۔“ اسراف سے مراد حد سے تجاوز کر کے حرام امور میں داخل ہونا ہے۔ انھیں معلوم ہے کہ گناہ اور اسراف اللہ تعالیٰ کی نصرت اور توفیق کے اٹھ جانے کا سب سے بڑا سبب ہے اور گناہ اور اسراف کو چھوڑ دینا اللہ تعالیٰ کی نصرت کے حصول کا سبب ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنے گناہوں کی بخشش کا سوال کیا۔ پھر انھوں نے محض اپنی جدوجہد اور اپنے صبر پر ہی بھروسہ نہیں کیا بلکہ انھوں نے اللہ تعالیٰ پر اعتماد کیا اور انھوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ دشمن سے مقابلہ ہونے کے وقت انھیں ثابت قدمی سے نوازے اور دشمن کے مقابلے میں فتح و نصرت عطا کرے۔ پس اہل ایمان نے صبر کرنے، صبر کے متضاد امور کو ترک کرنے، توبہ، استغفار اور اللہ تعالیٰ سے فتح و نصرت کی دعا کو ایک جگہ جمع کر دیا۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح و نصرت سے نوازا۔ اور دنیا و آخرت میں ان کا اچھا انجام کیا۔ اس لیے فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذكر قولهم واستنصارهم لربهم فقال: {وما كان قولهم}؛ أي: في تلك المواطن الصعبة {إلا أن قالوا ربنا اغفر لنا ذنوبنا وإسرافنا في أمرنا}، والإسراف هو: مجاوزة الحد إلى ما حرم، علموا أن الذنوب والإسراف من أعظم أسباب الخذلان وأن التخلي منها من أسباب النصر، فسألوا ربهم مغفرتها. ثم إنهم لم يتكلوا على ما بذلوا جهدهم به من الصبر، بل اعتمدوا على الله، وسألوه أن يثبت أقدامهم عند ملاقاة الأعداء الكافرين، وأن ينصرهم عليهم، فجمعوا بين الصبر وترك ضده، والتوبة والاستغفار والاستنصار بربهم، لا جرم أن الله نصرهم، وجعل لهم العاقبة في الدنيا والآخرة ولهذا قال:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔