تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 148

فَاٰتٰىہُمُ اللّٰہُ ثَوَابَ الدُّنۡیَا وَ حُسۡنَ ثَوَابِ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۴۸﴾٪
تو اللہ نے انھیں دنیا کا بدلہ عطا فرمایا اور آخرت کا اچھا بدلہ بھی اور اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ En
تو خدا نے ان کو دنیا میں بھی بدلہ دیا اور آخرت میں بھی بہت اچھا بدلہ (دے گا) اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے
En
اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا کا ﺛواب بھی دیا اور آخرت کے ﺛواب کی خوبی بھی عطا فرمائی اور اللہ تعالیٰ نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَـوَابَ الدُّنْیَا پس دیا ان کو اللہ نے دنیا کا ثواب یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں فتح و ظفر سے نوازا اور مال غنیمت عطا کیا ﴿وَحُسْنَ ثَـوَابِ الْاٰخِرَةِ اور خوب آخرت کا ثواب یعنی اپنے رب کی رضا کے حصول میں کامیابی، ہمیشہ رہنے والی نعمتوں کا عطا ہونا جو ہر قسم کے تکدر سے محفوظ ہوں گی۔ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ انھوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے بہترین اعمال سرانجام دیے پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو بہترین جزا سے نوازا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ یعنی خالق کی عبادت اور مخلوق کے ساتھ معاملہ میں احسان کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے۔ دشمن کے ساتھ جہاد کے وقت، ان مومنین کا سا کردار اختیار کرنا بھی احسان ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فآتاهم الله ثواب الدنيا} من النصر والظفر والغنيمة {وحُسن ثواب الآخرة} وهو الفوز برضا ربهم والنعيم المقيم الذي قد سلم من جميع المنكدات، وما ذاك إلا أنهم أحسنوا له الأعمال فجازاهم بأحسن الجزاء، فلهذا قال: {والله يحب المحسنين} في عبادة الخالق ومعاملة الخلق، ومن الإحسان أن يفعل عند جهاد الأعداء كفعل هؤلاء المؤمنين. ثم قال تعالى: