تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 146

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ نَّبِیٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَہٗ رِبِّیُّوۡنَ کَثِیۡرٌ ۚ فَمَا وَہَنُوۡا لِمَاۤ اَصَابَہُمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ مَا ضَعُفُوۡا وَ مَا اسۡتَکَانُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۶﴾
اور کتنے ہی نبی ہیں جن کے ہمراہ بہت سے رب والوں نے جنگ کی، تو نہ انھوںنے اس مصیبت کی وجہ سے ہمت ہاری جو انھیں اللہ کی راہ میں پہنچی اور نہ وہ کمزور پڑے اور نہ انھوں نے عاجزی دکھائی اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ En
اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل الله (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصبتیں ان پر راہِ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے
En
بہت سے نبیوں کے ہم رکاب ہو کر، بہت سے اللہ والے جہاد کر چکے ہیں، انہیں بھی اللہ کی راه میں تکلیفیں پہنچیں لیکن نہ تو انہوں نے ہمت ہاری نہ سست رہے اور نہ دبے، اور اللہ صبر کرنے والوں کو (ہی) چاہتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے تسلی ہے اور ان کے فعل کی اقتدا کی ترغیب ہے اور اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ (حق و باطل کی کشمکش کا) یہ معاملہ شروع ہی سے چلا آ رہا ہے اور ازل سے اللہ تعالیٰ کی سنت جاری ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَكَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ یعنی کتنے ہی نبی ہیں ﴿قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ جن کے ساتھ ہوکر اکثر اللہ والوں نے قتال کیا ہے۔ یعنی انبیاء کرام کے پیروکاروں کی بہت سی جماعتوں نے، جن کی انبیاء علیہم السلام نے ایمان اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے تربیت کی، جہاد کیا، پس وہ شہید ہوئے اور انھوں نے زخم کھائے ﴿فَمَا وَهَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوْا وَمَا اسْتَكَانُوْا یعنی ان کے دل کمزور ہوئے نہ ان کے بدن، اور نہ انھوں نے عاجزی اور فروتنی ظاہر کی۔ یعنی وہ دشمن کے سامنے جھکے نہیں۔ بلکہ انھوں نے صبر کیا اور ثابت قدم رہے اور اپنا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰؔبِرِیْنَ اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

هذا تسلية للمؤمنين وحثٌّ على الاقتداء بهم والفعل كفعلهم، وأن هذا أمر قد كان متقدماً لم تزل سنة الله جارية بذلك، فقال: {وكأين من نبي}؛ أي: وكم من نبي {قاتل معه ربيون كثير}؛ أي: جماعات كثيرون من أتباعهم الذين قد ربتهم الأنبياء بالإيمان والأعمال الصالحة فأصابهم قتل وجراح وغير ذلك، {فما وهنوا لما أصابهم في سبيل الله وما ضعفوا وما استكانوا}؛ أي: ما ضعفت قلوبهم، ولا وهنت أبدانهم، ولا استكانوا؛ أي: ذلُّوا لعدوهم، بل صبروا وثبتوا وشجعوا أنفسهم، ولهذا قال: {والله يحب الصابرين}.