اور کتنے ہی نبی ہیں جن کے ہمراہ بہت سے رب والوں نے جنگ کی، تو نہ انھوںنے اس مصیبت کی وجہ سے ہمت ہاری جو انھیں اللہ کی راہ میں پہنچی اور نہ وہ کمزور پڑے اور نہ انھوں نے عاجزی دکھائی اور اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔
En
اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل الله (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصبتیں ان پر راہِ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے
بہت سے نبیوں کے ہم رکاب ہو کر، بہت سے اللہ والے جہاد کر چکے ہیں، انہیں بھی اللہ کی راه میں تکلیفیں پہنچیں لیکن نہ تو انہوں نے ہمت ہاری نہ سست رہے اور نہ دبے، اور اللہ صبر کرنے والوں کو (ہی) چاہتا ہے
En
(آیت 146تا148) { ”رِبِّيُّوْنَ“ } یہ {”رِبِّيٌّ“} کی جمع ہے، جو {”رَبَّانِيٌّ“} کا ہم معنی ہے۔ (کشاف) ایک معنی اور بھی اہل علم نے کیا ہے کہ یہ {”رِبَّةٌ“} کی طرف منسوب ہے، جس کا معنی کثیر جماعت ہے، یعنی ان کے ہمراہ بہت سی جماعتیں تھیں۔ (قرطبی) {”وَهْنٌ،ضُعْفٌ،اِسْتِكَانَةٌ“} یہ تینوں لفظ قریب المعنی ہیں، کمزوری کے معنی میں یہ بالترتیب واقع ہوتے ہیں۔ {”وَهْنٌ“} دل سے ہمت ہارنا، ”ضُعْفٌ“ عام کمزوری اور {”اِسْتِكَانَةٌ“} دشمن کے سامنے عاجزی کا اظہار۔ ان تینوں آیتوں سے مقصود ان لوگوں پر عتاب اور تنبیہ ہے جو احد کے دن شکست کے آثار دیکھ کر ہمت ہار بیٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت کی افواہ سن کر بالکل ہی پست ہو گئے، پس فرمایا کہ تم سے پہلے انبیاء کے متبعین گزر چکے ہیں، ان کا اتباع کرو اور اس قسم کی کمزوری نہ دکھاؤ۔ (قرطبی، ابن کثیر) یعنی ان لوگوں میں سے بہت سے {”رِبِّيُّوْنَ“} اپنے انبیاء کے ساتھ مل کر جہاد کرتے رہے، لیکن انھوں نے اپنی تعداد کی قلت اوربے سروسامانی کے باوجود کبھی ہمت نہیں ہاری اور نہ کبھی اپنے انبیاء کے وفات پا جانے یا شہید ہو جانے کی صورت میں وسوسوں میں مبتلا ہوئے، بلکہ ہمیشہ اور ہر حال میں صبر و استقلال سے کام لیتے رہے اور اللہ تعالیٰ سے اپنی کوتاہیوں پر عفو و درگزر کی درخواست کرتے رہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا و آخرت دونوں کے ثواب سے نواز دیا، بلکہ آخرت کے حسن ثواب سے اور احسان کا مرتبہ پا لینے کی وجہ سے اپنی محبت بھی عطا فرمائی، فرمایا: «وَاللّٰهُيُحِبُّالْمُحْسِنِيْنَ»
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
146۔ 1 یعنی ان کو جو جنگ کی شدتوں میں پست ہمت نہیں ہوتے اور ضعف اور کمزوری نہیں دکھاتے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
146۔ کتنے ہی نبی گزر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جہاد کیا۔ ان کو اللہ کی راہ میں جو مصائب درپیش ہوئے ان میں نہ تو انہوں نے ہمت ہاری، نہ کمزوری دکھائی اور نہ ہی (کفر کے آگے) سرنگوں ہوئے۔ ایسے ہی ثابت [134] قدم رہنے والوں کو اللہ پسند کرتا ہے
[134] اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے سابقہ انبیاء اور مجاہدین کی مثال دے کر اہل احد کو ہدایت فرمائی ہے کہ اگر تمہیں وقتی طور پر شکست کا حادثہ پیش آ بھی گیا تھا تو اس وقت بے صبری یا بے دلی کا مظاہرہ کرنا ایمان والوں کا شیوہ نہیں۔ تم سے پہلے لوگوں پر اس سے زیادہ سختیاں آئیں۔ لیکن انہوں نے بے صبری اور بے دلی کا قطعاً مظاہرہ نہیں کیا نہ ہی باطل کے آگے سرنگوں ہوئے۔ یہ خطاب در اصل کمزور ایمان والوں سے ہے جن میں کچھ تو ابو سفیان کی پناہ میں آنے کی بات سوچ رہے تھے اور کچھ ارتداد کی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان کے لیے تسلی ہے اور ان کے فعل کی اقتدا کی ترغیب ہے اور اس حقیقت سے آگاہ کرنا ہے کہ (حق و باطل کی کشمکش کا) یہ معاملہ شروع ہی سے چلا آ رہا ہے اور ازل سے اللہ تعالیٰ کی سنت جاری ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿وَكَاَیِّنْمِّنْنَّبِیٍّ﴾”یعنی کتنے ہی نبی ہیں“﴿قٰتَلَ١ۙمَعَهٗرِبِّیُّوْنَكَثِیْرٌ﴾”جن کے ساتھ ہوکر اکثر اللہ والوں نے قتال کیا ہے۔“ یعنی انبیاء کرام کے پیروکاروں کی بہت سی جماعتوں نے، جن کی انبیاء علیہم السلام نے ایمان اور اعمال صالحہ کے ذریعے سے تربیت کی، جہاد کیا، پس وہ شہید ہوئے اور انھوں نے زخم کھائے ﴿فَمَاوَهَنُوْالِمَاۤاَصَابَهُمْفِیْسَبِیْلِاللّٰهِوَمَاضَعُفُوْاوَمَااسْتَكَانُوْا﴾ یعنی ان کے دل کمزور ہوئے نہ ان کے بدن، اور نہ انھوں نے عاجزی اور فروتنی ظاہر کی۔ یعنی وہ دشمن کے سامنے جھکے نہیں۔ بلکہ انھوں نے صبر کیا اور ثابت قدم رہے اور اپنا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاللّٰهُیُحِبُّالصّٰؔبِرِیْنَ﴾”اللہ صبر کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذا تسلية للمؤمنين وحثٌّ على الاقتداء بهم والفعل كفعلهم، وأن هذا أمر قد كان متقدماً لم تزل سنة الله جارية بذلك، فقال: {وكأين من نبي}؛ أي: وكم من نبي {قاتل معه ربيون كثير}؛ أي: جماعات كثيرون من أتباعهم الذين قد ربتهم الأنبياء بالإيمان والأعمال الصالحة فأصابهم قتل وجراح وغير ذلك، {فما وهنوا لما أصابهم في سبيل الله وما ضعفوا وما استكانوا}؛ أي: ما ضعفت قلوبهم، ولا وهنت أبدانهم، ولا استكانوا؛ أي: ذلُّوا لعدوهم، بل صبروا وثبتوا وشجعوا أنفسهم، ولهذا قال: {والله يحب الصابرين}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔