تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 141

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ یَمۡحَقَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۴۱﴾
اور تاکہ اللہ ان لوگوں کو خالص کر دے جو ایمان لائے اور کافروں کو مٹا دے۔ En
اور یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو خالص (مومن) بنا دے اور کافروں کو نابود کر دے
En
(یہ وجہ بھی تھی) کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو بالکل الگ کر دے اور کافروں کو مٹا دے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلِیُمَحِّ٘صَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اور یہ کہ اللہ ایمان والوں کو خالص (مومن) بنادے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ ان آزمائشوں کے ذریعے سے اہل ایمان کو گناہوں اور عیبوں سے پاک کرتا ہے۔ اور اس امر کی دلیل یہ ہے کہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جنگ کرنا گناہوں کو مٹا دیتے اور عیوب کو زائل کر دیتے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو منافقین سے پاک کرتا ہے اور وہ منافقین سے الگ ہو جاتے ہیں اور وہ منافق اور مومن کو پہچان لیتے ہیں اور اس میں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے یہ سب کچھ کفار کو مٹانے کے لیے مقرر کیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے (جہاد کو) سزا کے ذریعے سے کفار کے استیصال کا سبب بنایا کیونکہ جب کفار فتح یاب ہوتے ہیں تو بغاوت کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں اور اپنی سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں چنانچہ وہ اس دنیا ہی میں سزا کے مستحق بن جاتے ہیں اور یہ بھی مومن بندوں پر اللہ کی مہربانی ہے (کہ وہ منافقوں کو جلد ہی دنیا میں عبرت ناک انجام سے دوچار کر دیتا ہے)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وليمحص الله الذين آمنوا}، وهذا أيضاً من الحكم أن الله يمحص بذلك المؤمنين من ذنوبهم وعيوبهم، يدل ذلك على أن الشهادة والقتال في سبيل الله تكفر الذنوب وتزيل العيوب ، وليمحص الله أيضاً المؤمنين من غيرهم من المنافقين فيتخلصون منهم ويعرفون المؤمن من المنافق.

ومن الحكم أيضاً أنه يقدر ذلك ليمحق الكافرين، أي: ليكون سبباً لمحقهم واستئصالهم بالعقوبة، فإنهم إذا انتصروا بغوا وازدادوا طغياناً إلى طغيانهم يستحقون به المعاجلة بالعقوبة رحمة بعباده المؤمنين. ثم قال تعالى: