اس آیت کی تفسیر آیت 140 میں تا آیت 142 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
141۔ 1 احد میں مسلمانوں کو جو عارضی شکست ان کی اپنی کوتاہی کی وجہ سے ہوئی اس میں بھی مستقبل کے لئے کئی حکمتیں پنہاں ہیں۔ جنہیں اللہ تعالیٰ آگے بیان فرما رہا ہے۔ ایک یہ کہ ایمان والوں کو ظاہر کر دے (کیونکہ صبر اور استقامت ایمان کا تقاضا ہے) جنگ کی شدتوں اور مصیبتوں میں جنہوں نے صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا، یقینا وہ سب مومن ہیں۔ دوسری یہ کہ کچھ لوگوں کو شہادت کے مرتبہ پر فائز کر دے۔ آخری دونوں کا مطلب گناہوں سے پاکی اور خلاصی ہے (فتح الْقدیر) مرحوم مترجم نے پہلے معنی کو اختیار کیا ہے چوتھی، یہ کہ کافروں کو ہٹا دے۔ وہ اس طرح کہ وقتی فتح یابی سے ان کی سرکشی اور تکبر میں اضافہ ہوگا اور یہی چیز ان کی تباہی و ہلاکت کا سبب بنے گی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
141۔ اور اس لیے بھی کہ وہ اس آزمائش کے ذریعہ مومنوں کو پاک صاف کر کے چھانٹ لے اور کافروں [128] کو ملیا میٹ کر دے
[128] تیسری حکمت یہ ہے کہ حقیقی مسلمان ممتاز ہو کر سب کے سامنے آجائیں اور کافر اس عارضی فتح سے دلیر ہو کر پھر سے مسلمانوں پر حملہ کرنے آجائیں تو ان کے ان کرتوتوں کا انہیں بدلہ مل سکے۔ چنانچہ بعد میں غزوہ خندق میں کفار شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس کے بعد ان میں یہ سکت ہی نہ رہی کہ جارحانہ طور پر مسلمانوں پر حملہ آور ہو سکیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿وَلِیُمَحِّ٘صَاللّٰهُالَّذِیْنَاٰمَنُوْا﴾”اور یہ کہ اللہ ایمان والوں کو خالص (مومن) بنادے۔“ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ ان آزمائشوں کے ذریعے سے اہل ایمان کو گناہوں اور عیبوں سے پاک کرتا ہے۔ اور اس امر کی دلیل یہ ہے کہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جنگ کرنا گناہوں کو مٹا دیتے اور عیوب کو زائل کر دیتے ہیں۔ نیز اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو منافقین سے پاک کرتا ہے اور وہ منافقین سے الگ ہو جاتے ہیں اور وہ منافق اور مومن کو پہچان لیتے ہیں اور اس میں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے یہ سب کچھ کفار کو مٹانے کے لیے مقرر کیا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے (جہاد کو) سزا کے ذریعے سے کفار کے استیصال کا سبب بنایا کیونکہ جب کفار فتح یاب ہوتے ہیں تو بغاوت کا رویہ اختیار کر لیتے ہیں اور اپنی سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں چنانچہ وہ اس دنیا ہی میں سزا کے مستحق بن جاتے ہیں اور یہ بھی مومن بندوں پر اللہ کی مہربانی ہے (کہ وہ منافقوں کو جلد ہی دنیا میں عبرت ناک انجام سے دوچار کر دیتا ہے)
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وليمحص الله الذين آمنوا}، وهذا أيضاً من الحكم أن الله يمحص بذلك المؤمنين من ذنوبهم وعيوبهم، يدل ذلك على أن الشهادة والقتال في سبيل الله تكفر الذنوب وتزيل العيوب ، وليمحص الله أيضاً المؤمنين من غيرهم من المنافقين فيتخلصون منهم ويعرفون المؤمن من المنافق.
ومن الحكم أيضاً أنه يقدر ذلك ليمحق الكافرين، أي: ليكون سبباً لمحقهم واستئصالهم بالعقوبة، فإنهم إذا انتصروا بغوا وازدادوا طغياناً إلى طغيانهم يستحقون به المعاجلة بالعقوبة رحمة بعباده المؤمنين. ثم قال تعالى:
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔