اگر تمھیں کوئی زخم پہنچے تو یقینا ان لوگوں کو بھی اس جیسا زخم پہنچا ہے اور یہ تو دن ہیں، ہم انھیں لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں، اور تاکہ اللہ ان لوگوں کو جان لے جو ایمان لائے اور تم میں سے بعض کو شہید بنائے اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔
En
اگر تمہیں زخم (شکست) لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں اور اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے گواہ بنائے اور خدا بےانصافوں کو پسند نہیں کرتا
اگر تم زخمی ہوئے ہو تو تمہارے مخالف لوگ بھی تو ایسے ہی زخمی ہو چکے ہیں، ہم ان دنوں کو لوگوں کے درمیان ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔ (شکست احد) اس لئے تھی کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ﻇاہر کردے اور تم میں سے بعض کو شہادت کا درجہ عطا فرمائے، اللہ تعالیٰ ﻇالموں سے محبت نہیں کرتا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿اِنْیَّمْسَسْكُمْقَ٘رْحٌفَقَدْمَسَّالْقَوْمَقَ٘رْحٌمِّثْلُهٗ﴾ یعنی زخم کھانے کے اعتبار سے تم اور وہ برابر ہو۔ مگر تم اللہ تعالیٰ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿اِنْتَكُوْنُوْاتَاْلَمُوْنَفَاِنَّهُمْیَاْلَمُوْنَكَمَاتَاْلَمُوْنَ١ۚوَتَرْجُوْنَمِنَاللّٰهِمَالَایَرْجُوْنَ﴾ (النساء:4؍104) ”اگر تمھیں تکلیف پہنچتی ہے تو انھیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمھیں پہنچتی ہے اور تم اللہ سے ایسی امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔“ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ مومن و کافر اور نیک و بد سب کو حصہ عطا کرتا ہے اور ان ایام کو لوگوں کے مابین ادلتا بدلتا رہتا ہے آج کامیابی ایک گروہ کے لیے ہے تو کل کسی اور گروہ کے لیے۔ کیونکہ یہ دنیا تو آخر کار ختم ہو جانے والی اور فانی ہے مگر اس کے برعکس آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے اور وہ صرف اہل ایمان کے لیے ہے۔
﴿وَلِیَعْلَمَاللّٰهُالَّذِیْنَاٰمَنُوْا﴾ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہزیمت اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ مومن اور منافق کے درمیان فرق واضح ہو جائے، کیونکہ اگر مومنوں کو تمام جنگوں میں فتح ہی حاصل ہوتی رہے تو اسلام میں ایسے لوگ بھی داخل ہو جائیں گے جو اسلام نہیں چاہتے۔ اگر بعض مواقع پر مسلمان آزمائش مومن میں مبتلا ہوں تو حقیقی مومن کا پتہ چل جاتا ہے جو مصیبت و مسرت، فراخی اور تنگی ہر حالت میں اسلام میں رغبت رکھتا ہے۔ ﴿وَیَتَّؔخِذَمِنْؔكُمْشُهَدَآءَؔ﴾”اور تم میں سے گواہ بنائے۔“ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے، کیونکہ شہادت اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند ترین مرتبہ ہے اور اس کے اسباب کے حصول کے بغیر وہاں تک پہنچنا ناممکن ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے مومن بندوں پر رحمت ہے کہ وہ ان کے لیے اسباب مہیا کرتا ہے جو اگرچہ نفوس کو ناپسند ہوتے ہیں مگر ان اسباب کے ذریعے سے وہ اعلیٰ مراتب اور دائمی نعمتیں حاصل کر لیتے ہیں جو انھیں پسند ہیں۔ ﴿وَاللّٰهُلَایُحِبُّالظّٰلِمِیْنَ﴾”اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا“ یعنی وہ لوگ جنھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اللہ کے راستے میں جہاد کو چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَوْاَرَادُواالْخُرُوْجَلَاَعَدُّوْالَهٗعُدَّةًوَّلٰكِنْكَرِهَاللّٰهُانْۢبِعَاثَهُمْفَثَ٘بَّطَهُمْوَقِیْلَاقْعُدُوْامَعَالْقٰعِدِیْنَ﴾ (التوبۃ: 9؍46) ”اگر وہ جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ کرتے تو وہ اس کے لیے سامان تیار کرتے مگر اللہ کو ان کا اٹھنا پسند نہ آیا اور ان کو اس سے باز رکھا اور کہا گیا کہ معذور بیٹھے ہوئے لوگوں کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إن يمسسكم قرح فقد مس القوم قرح مثله}، فأنتم وهم قد تساويتم في القرح، ولكنكم ترجون من الله ما لا يرجون كما قال تعالى: {إن تكونوا تألمون فإنهم يألمون كما تألمون وترجون من الله ما لا يرجون}.
ومن الحكم في ذلك أن هذه الدار يعطي الله منها المؤمن والكافر والبر والفاجر فيداول الله الأيام بين الناس: يوم لهذه الطائفة ويوم للطائفة الأخرى، لأن هذه الدارَ الدنيا منقضية فانية، وهذا بخلاف الدار الآخرة فإنها خالصة للذين آمنوا.
{وليعلم الله الذين آمنوا}، هذا أيضاً من الحكم أنه يبتلي الله عباده بالهزيمة والابتلاء ليتبين المؤمن من المنافق، لأنه لو استمر النصر للمؤمنين في جميع الوقائع لدخل في الإسلام من لا يريده، فإذا حصل في بعض الوقائع بعض أنواع الابتلاء تبين المؤمن حقيقة الذي يرغب في الإسلام في الضراء والسراء واليسر والعسر ممن ليس كذلك، {ويتخذ منكم شهداء}.
وهذا أيضاً من بعض الحكم، لأن الشهادة عند الله من أرفع المنازل، ولا سبيل لنيلها إلا بما يحصل من وجود أسبابها، فهذا من رحمته بعباده المؤمنين، أن قيَّض لهم من الأسباب ما تكرهه النفوس، لينيلهم ما يحبون من المنازل العالية والنعيم المقيم.
{والله لا يحب الظالمين}، الذين ظلموا أنفسهم وتقاعدوا عن القتال في سبيله، وكأن في هذا تعريضاً بذم المنافقين وأنهم مبغوضون لله، ولهذا ثبطهم عن القتال في سبيله، ولو أرادوا الخروج لأعدوا له عدة، ولكن كره الله انبعاثهم فثبطهم وقيل اقعدوا مع القاعدين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔