تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {وَ تِلْكَ الْاَيَّامُ …:} جنگ احد میں مسلمانوں کو سخت جانی نقصان پہنچا۔ یہود اور منافقین کے طعنے مزید دل دکھانے کا باعث بنے۔ منافق کہتے تھے کہ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم ) سچے نبی ہوتے تو مسلمان یہ نقصان اور ہزیمت کی ذلت کیوں اٹھاتے وغیرہ۔ ان آیات میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ فتح و شکست تو ادلتی بدلتی چیز ہے، یہ حق اور نا حق کا معیار نہیں، آج اگر تم نے زخم کھایا ہے تو کل وہ جنگ بدر میں تمھارے ہاتھوں اسی قسم کا زخم کھا چکے ہیں اور خود اس جنگ کے شروع میں ان کے بہت سے آدمی مارے جا چکے ہیں، جیسا کہ اس آیت: «اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ» [آل عمران: ۱۵۲] (جب تم انھیں اس کے حکم سے کاٹ رہے تھے) سے معلوم ہوتا ہے۔ تمھاری اس شکست میں بھی کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں، ایک یہ کہ ایمان و اخلاص اور کفر و نفاق میں تمیز ہو گئی، مومن اور منافق الگ الگ ہو گئے، اگر ہمیشہ مسلمانوں کو فتح ہوتی تو منافقین کا نفاق ظاہر نہ ہوتا۔ دوسری مومنوں کو شہادت نصیب ہوئی، فرمایا: «وَ يَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ» جو اللہ کے ہاں بہت بڑا شرف ہے۔ کفار کی اس عارضی فتح کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ ظالموں اور مشرکوں کو پسند کرتا ہے، فرمایا: «وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظّٰلِمِيْنَ» ”اور اللہ ظالموں سے محبت نہیں کرتا۔“ تیسری یہ کہ مومنوں کو خالص کرے، اگر ان میں کچھ کمی ہے تو دور کر دے، فرمایا: «وَ لِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا» ”اور تاکہ اللہ ان لوگوں کو خالص کر دے جو ایمان لائے“ اور چوتھی یہ کہ کفار کی طاقت کو ختم کرنا مقصود ہے، «وَ يَمْحَقَ الْكٰفِرِيْنَ» اس طرح کہ وہ اپنی عارضی فتح پر مغرور ہو کر پھر لڑنے آئیں گے اور اس وقت ان کی وہ سرکوبی ہو گی کہ دوبارہ اس طرف رخ کرنے کا نام نہیں لیں گے۔ چنانچہ غزوۂ احزاب کے موقع پر ایسا ہی ہوا کہ اس کے بعد کفار نے دفاعی جنگیں تو لڑیں مگر خود حملے کی جرأت نہ کر سکے۔ (رازی، شوکانی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
﴿وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَا﴾
کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگوں کو شہادت کا درجہ نصیب ہو۔
[127] ظالم لوگوں سے مراد وہی منافقوں کی جماعت ہے جو عبد اللہ بن ابی کے ساتھ واپس چلی گئی تھی اور جس موقعہ پر مسلمانوں کو شکست ہوئی تو یہ لوگ مسلمانوں میں بددلی پھیلانے میں پیش پیش تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إن يمسسكم قرح فقد مس القوم قرح مثله}، فأنتم وهم قد تساويتم في القرح، ولكنكم ترجون من الله ما لا يرجون كما قال تعالى: {إن تكونوا تألمون فإنهم يألمون كما تألمون وترجون من الله ما لا يرجون}.
ومن الحكم في ذلك أن هذه الدار يعطي الله منها المؤمن والكافر والبر والفاجر فيداول الله الأيام بين الناس: يوم لهذه الطائفة ويوم للطائفة الأخرى، لأن هذه الدارَ الدنيا منقضية فانية، وهذا بخلاف الدار الآخرة فإنها خالصة للذين آمنوا.
{وليعلم الله الذين آمنوا}، هذا أيضاً من الحكم أنه يبتلي الله عباده بالهزيمة والابتلاء ليتبين المؤمن من المنافق، لأنه لو استمر النصر للمؤمنين في جميع الوقائع لدخل في الإسلام من لا يريده، فإذا حصل في بعض الوقائع بعض أنواع الابتلاء تبين المؤمن حقيقة الذي يرغب في الإسلام في الضراء والسراء واليسر والعسر ممن ليس كذلك، {ويتخذ منكم شهداء}.
وهذا أيضاً من بعض الحكم، لأن الشهادة عند الله من أرفع المنازل، ولا سبيل لنيلها إلا بما يحصل من وجود أسبابها، فهذا من رحمته بعباده المؤمنين، أن قيَّض لهم من الأسباب ما تكرهه النفوس، لينيلهم ما يحبون من المنازل العالية والنعيم المقيم.
{والله لا يحب الظالمين}، الذين ظلموا أنفسهم وتقاعدوا عن القتال في سبيله، وكأن في هذا تعريضاً بذم المنافقين وأنهم مبغوضون لله، ولهذا ثبطهم عن القتال في سبيله، ولو أرادوا الخروج لأعدوا له عدة، ولكن كره الله انبعاثهم فثبطهم وقيل اقعدوا مع القاعدين.