تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 136

اُولٰٓئِکَ جَزَآؤُہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ وَ نِعۡمَ اَجۡرُ الۡعٰمِلِیۡنَ ﴿۱۳۶﴾ؕ
یہ لوگ ہیں جن کی جزا ان کے رب کی طرف سے بڑی بخشش اور ایسے باغات ہیں جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں اور (یہ) عمل کرنے والوں کا اچھا اجر ہے۔ En
ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور (اچھے) کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے
En
انہیں کا بدلہ ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وه ہمیشہ رہیں گے، ان نیک کاموں کے کرنے والوں کا ﺛواب کیا ہی اچھا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اُولٰٓىِٕكَ یعنی وہ لوگ جو ان صفات سے متصف ہیں ﴿ جَزَؔآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ ان کی جزا مغفرت ہے ان کے رب کی طرف سے۔ اور یہ مغفرت ان کے ہر گناہ کو زائل کر دے گی ﴿ وَجَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْ٘هٰرُ ان جنتوں میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں، شادمانی، خوبصورتی، رونق، بھلائی، مسرت، عالی شان محل، خوبصورت اور بلند منازل، پھلوں سے لدے ہوئے خوش کن درخت، اور ان خوبصورت مساکن و منازل میں نہریں بہہ رہی ہوں گی ﴿ خٰؔلِدِیْنَ فِیْهَا وہ ان جنتوں میں ہمیشہ رہیں گے انھیں وہاں سے نکالا جائے گا نہ وہ ان جنتوں کے بدلے میں کچھ اور چاہیں گے اور نہ ان نعمتوں کو، جن میں وہ رہتے ہوں گے، بدلا جائے گا۔ ﴿ وَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْ٘نَ اور عمل کرنے والوں کا اجر اچھا ہے یعنی انھوں نے اللہ تعالیٰ کی خاطر تھوڑا عمل کیا مگر ان کو بہت زیادہ اجر عطا ہوا۔ مشقت برداشت کرنے کے بعد ہی راحت کی امید ہوتی ہے اور جزا کے وقت ہی عمل کرنے والے کو اپنے عمل کا پورا اور وافر بدلہ عطا ہوتا ہے۔
یہ آیات کریمہ مرجئہ کے برعکس اہل سنت والجماعت کے اس موقف پر دلالت کرتی ہیں کہ اعمال ایمان میں داخل ہیں اور آیت کریمہ سے استدلال کا پہلو سورۃ الحدید کی اس آیت کو ملا کر مکمل ہوتا ہے جو کہ اس آیت کی نظیر ہے ﴿ سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهٖ٘ (الحدید: 57؍21) اپنے رب کی بخشش اور جنت کی طرف لپکو جس کی چوڑائی زمین و آسمان کی چوڑائی کی مانند ہے جسے ان لوگوں کے لیے تیار کیا گیا ہے جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔
اس آیت کریمہ میں صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان کا ذکر کیا گیا ہے جبکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ اُعِدَّتْ لِلْ٘مُتَّقِیْنَ جنت متقین کے لیے تیار کی گئی ہے پھر متقین کے اعمال مالیہ اور اعمال بدنیہ بیان فرمائے۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ وہ متقین، جو ان صفات سے متصف ہیں، وہی مومن ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أولئك}؛ الموصوفون بتلك الصفات {جزاؤهم مغفرة من ربهم} تزيل عنهم كل محذور، {وجنات تجري من تحتها الأنهار} فيها من النعيم المقيم والبهجة والسرور والبهاء والخير والسرور والقصور والمنازل الأنيقة العاليات والأشجار المثمرة البهية والأنهار الجاريات في تلك المساكن الطيبات {خالدين فيها} لا يحولون عنها ولا يبغون بها بدلاً ولا يغير ما هم فيه من النعيم {ونعم أجر العاملين} عملوا لله قليلاً فأجروا كثيراً، فعند الصباح يحمَد القومُ السَّرى وعند الجزاء يجد العامل أجره كاملاً موفراً.

وهذه الآيات الكريمات من أدلة أهل السنة والجماعة، على أن الأعمال تدخل في الإيمان خلافاً للمرجئة، ووجه الدلالة إنما يتم بذكر الآية التي في سورة الحديد نظير هذه الآيات وهي قوله: {سابقوا إلى مغفرة من ربكم وجنة عرضها كعرض السماء والأرض أعدت للذين آمنوا بالله ورسله}، فلم يذكر فيها إلا لفظ الإيمان به وبرسله، وهنا قال: {أُعدت للمتقين}، ثم وصف المتقين بهذه الأعمال المالية والبدنية، فدل على أن هؤلاء المتقين هم الموصوفين بهذه الصفات هم أولئك المؤمنون. ثم قال تعالى: