تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
صحیح مسلم میں روایت امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مروی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم میں سے جو شخص کامل وضو کر کے دعا «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْکَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ» پڑھے اس کیلئے جنت کے آٹھوں دروازے کھل جاتے ہیں جس سے چاہے اندر چلا جائے،[صحیح مسلم:234] ۱؎ امیر المؤمنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سنت کے مطابق وضو کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ نے فرمایا جو شخص مجھ جیسا وضو کرے پھر دو رکعت نماز ادا کرے جس میں اپنے دل سے باتیں نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ [بخاری مسلم] [صحیح بخاری:159] ۱؎
تو الحمداللہ، اللہ تعالیٰ کی وسیع مغفرت اور اس کی بے انتہاء مہربانی کی خبر سید الاولین والاخرین کی زبانی آپ کے چاروں برحق خلفاء کی معرفت ہمیں پہنچی [آؤ اس موقعہ پر ہم گنہگار بھی ہاتھ اٹھائیں اور اپنے مہربان رحیم و کریم اللہ کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اس سے معافی طلب کریں اللہ تعالیٰ اے ماں باپ سے زیادہ مہربان اے عفو ودرگزر کرنے والے! اور کسی بھکاری کو اپنے در سے خالی نہ پھیرنے والے! تو ہم خطا کاروں کی سیاہ کاریوں سے بھی درگزر فرما اور ہمارے کل گناہ معاف فرما دے۔ مترجم]
یہی وہ مبارک آیت ہے کہ جب یہ نازل ہوئی تو ابلیس رونے لگا۔ [عبدالرزاق:133/1] ۱؎ [مسند عبدالرزاق]
یہ حدیث دیکھ کر ابلیس نے لوگوں کو خواہش پرستی پر ڈال دیا پس وہ اپنے آپ کو راہ راست پر جانتے ہیں حالانکہ ہلاکت میں ہوتے ہیں۔[مسند ابویعلیٰ:136:ضعیف جداً] ۱؎ لیکن اس حدیث کے دو راوی ضعیف ہیں۔
مسند احمد میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ابلیس نے کہا اے رب مجھے تیری عزت کی قسم میں بنی آدم کو ان کے آخری دم تک بہکاتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے میرے جلال اور میری عزت کی قسم جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں بھی انہیں بخشتا رہوں گا [مسند احمد:29/3:ضعیف] ۱؎
مسند بزاز میں ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا مجھ سے گناہ ہو گیا آپ نے فرمایا پھر استغفار کر اس نے کہا مجھ سے اور گناہ ہوا فرمایا استغفار کئے جا، یہاں تک کہ شیطان تھک جائے [بزار فی کشف الاستار:3249:صحیح بالشواھد] ۱؎ پھر فرمایا گناہ کو بخشنا اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
مسند ابویعلیٰ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں وہ اصرار کرنے والا اور اڑنے والا نہیں جو استغفار کرتا رہتا ہے اگرچہ [بالفرض] اس سے ایک دن میں ستر مرتبہ بھی گناہ ہو جائے۔[سنن ابوداود:1514،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ۱؎
مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیان فرمایا لوگو! تم اوروں پر رحم کرو اللہ تم پر رحم کرے گا لوگو! تم دوسروں کی خطائیں معاف کرو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو بخشے گا باتیں بنانے والوں کی ہلاکت ہے [مسند احمد:165/2:صحیح] ۱؎
گناہ پر جم جانے والوں کی ہلاکت ہے پھر فرمایا ان کاموں کے بدلے ان کی جزا مغفرت ہے اور طرح طرح کی بہتی نہروں والی جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے، یہ بڑے اچھے اعمال ہیں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أولئك}؛ الموصوفون بتلك الصفات {جزاؤهم مغفرة من ربهم} تزيل عنهم كل محذور، {وجنات تجري من تحتها الأنهار} فيها من النعيم المقيم والبهجة والسرور والبهاء والخير والسرور والقصور والمنازل الأنيقة العاليات والأشجار المثمرة البهية والأنهار الجاريات في تلك المساكن الطيبات {خالدين فيها} لا يحولون عنها ولا يبغون بها بدلاً ولا يغير ما هم فيه من النعيم {ونعم أجر العاملين} عملوا لله قليلاً فأجروا كثيراً، فعند الصباح يحمَد القومُ السَّرى وعند الجزاء يجد العامل أجره كاملاً موفراً.
وهذه الآيات الكريمات من أدلة أهل السنة والجماعة، على أن الأعمال تدخل في الإيمان خلافاً للمرجئة، ووجه الدلالة إنما يتم بذكر الآية التي في سورة الحديد نظير هذه الآيات وهي قوله: {سابقوا إلى مغفرة من ربكم وجنة عرضها كعرض السماء والأرض أعدت للذين آمنوا بالله ورسله}، فلم يذكر فيها إلا لفظ الإيمان به وبرسله، وهنا قال: {أُعدت للمتقين}، ثم وصف المتقين بهذه الأعمال المالية والبدنية، فدل على أن هؤلاء المتقين هم الموصوفين بهذه الصفات هم أولئك المؤمنون. ثم قال تعالى: