اور وہ لوگ کہ جب کوئی بے حیائی کرتے ہیں، یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، پس اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کون گناہ بخشتا ہے؟ اور انھوں نے جو کیا اس پر اصرار نہیں کرتے، جب کہ وہ جانتے ہوں۔
En
اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون سکتا ہے؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے
جب ان سے کوئی ناشائستہ کام ہو جائے یا کوئی گناه کر بیٹھیں تو فوراً اللہ کا ذکر اور اپنے گناہوں کے لئے استغفار کرتے ہیں، فیالواقع اللہ تعالیٰ کے سوا اور کون گناہوں کو بخش سکتا ہے؟ اور وه لوگ باوجود علم کے کسی برے کام پر اڑ نہیں جاتے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَالَّذِیْنَاِذَافَعَلُوْافَاحِشَةًاَوْظَلَمُوْۤااَنْفُسَهُمْ ﴾ یعنی جب کبھی ان سے کوئی بڑا یا چھوٹا گناہ صادر ہو جاتا ہے تو وہ فوراً توبہ اور استغفار کرتے ہیں، اور اپنے رب اور اس کی وعید کو یاد کرتے ہیں جو اس نے نافرمانوں کو سنا رکھی ہے اور اپنے رب کے اس وعدے کو یاد کرتے ہیں جو اس نے اہل تقویٰ سے کر رکھا ہے۔ پس وہ گناہوں کو ترک کرنے اور ان پر نادم ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے اپنے ان گناہوں کی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اس سے اپنے عیوب پر پردہ پوشی کا سوال کرتے ہیں۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿ وَلَمْیُصِرُّوْاعَلٰىمَافَعَلُوْاوَهُمْیَعْلَمُوْنَ ﴾”اور وہ جانتے ہوئے اپنی بداعمالیوں پر اڑتے نہیں ہیں“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين إذا فعلوا فاحشة أو ظلموا أنفسهم}؛ أي: صدر منهم أعمال سيئة كبيرة أو ما دون ذلك، بادروا إلى التوبة والاستغفار، وذكروا ربهم وما توعد به العاصين، ووعد به المتقين فسألوه المغفرة لذنوبهم، والستر لعيوبهم، مع إقلاعهم عنها وندمهم عليها، فلهذا قال: {ولم يصروا على ما فعلوا وهم يعلمون}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔