تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 123

وَ لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدۡرٍ وَّ اَنۡتُمۡ اَذِلَّۃٌ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾
اور بلاشبہ یقینا اللہ نے بدر میں تمھاری مدد کی،جب کہ تم نہایت کمزور تھے، پس اللہ سے ڈرو، تاکہ تم شکر کرو۔ En
اور خدا نے جنگِ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بے سرو وسامان تھے پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو
En
جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے عین اس وقت تمہاری مدد فرمائی تھی جب کہ تم نہایت گری ہوئی حالت میں تھے، اس لئے اللہ ہی سے ڈرو! (نہ کسی اور سے) تاکہ تمہیں شکر گزاری کی توفیق ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو اپنا احسان یاد دلایا ہے، اور انھیں اپنی وہ مدد یا ددلائی ہے جو بدر کے موقع پر ہوئی۔ جب وہ کمزور تھے، ان کی تعداد بھی کم تھی، اور سامان بھی۔ جبکہ دشمنوں کی تعداد اور سامان جنگ کی مقدار بہت زیادہ تھی۔ غزوۂ بدر ہجرت کے دوسرے سال واقع ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے تین سو دس سے چند افراد زیادہ کی تعداد میں اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ان کے پاس صرف ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ آپ قریش کے تجارتی قافلہ کے تعاقب میں نکلے تھے جو شام سے آرہا تھا۔ مشرکین کو اطلاع ملی تو وہ اپنے قافلے کوبچانے کے لیے پوری طرح تیار ہوکر مکہ مکرمہ سے نکلے۔ وہ تقریباً ایک ہزار جنگجو تھے جن کے پاس مکمل سامان رسد، بکثرت ہتھیار اور بہت سے گھوڑے موجود تھے۔ ان کا مسلمانوں سے آمنا سامنا ایک چشمے کے پاس ہوا، جسے بدر کہتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عظیم مدد فرمائی، چنانچہ انھوں نے مشرکین کے ستر بہادر سردار قتل کیے اور ستر کو جنگی قیدی بنایا اور ان کی لشکر گاہ پر قبضہ کرلیا۔ جیسے سورۂ انفال میں ان شاء اللہ بیان ہوگا۔ اس کی تفصیل کا اصل مقام وہی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صرف اس لیے کیا ہے کہ مسلمان اس سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اور اس کا شکر کریں، اس لیے فرمایا: ﴿ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ اللہ ہی سے ڈرو، تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ کیونکہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہی اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جو تقویٰ ترک کردیتا ہے، وہ شکر گزار نہیں ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وإذ {نصركم الله ببدر وأنتم أذلة}؛ في عَددكم وعِددكم، فكانوا ثلاثمائة وبضعة عشر في قلة ظهْرٍ ورثاثة سلاح، وأعداؤهم يناهزون الألف في كمال العدة والسلاح {فاتقوا الله لعلكم تشكرون}؛ الذي أنعم عليكم بنصره.