جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ نے عین اس وقت تمہاری مدد فرمائی تھی جب کہ تم نہایت گری ہوئی حالت میں تھے، اس لئے اللہ ہی سے ڈرو! (نہ کسی اور سے) تاکہ تمہیں شکر گزاری کی توفیق ہو
En
(آیت 123) {وَّاَنْتُمْاَذِلَّةٌ:} اس لفظ سے مسلمانوں کی قلت تعداد اور ضعفِ حال کی طرف اشارہ ہے۔ مقام بدر مدینہ سے قریباً 150 کلو میٹر جنوب مغرب کی طرف واقع ہے۔غزوۂ بدر بروز جمعہ ۱۷ رمضان المبارک ۲ھ (۱۳ مارچ ۶۲۴ء) کو پیش آیا۔ اس آیت میں جنگ احد میں شکست کے اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معرکۂ بدر کے واقعات پر غور و فکر کی دعوت اور آئندہ ثابت قدم رہنے کے لیے تقویٰ کی تعلیم دی ہے۔ جنگِ بدر کی تفصیل کے لیے سورۂ انفال (۴۱) ملاحظہ کیجیے۔ (شوکانی، ابن کثیر)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
123۔ 1 بہ اعتبار قلت تعداد اور قلت سامان کے، کیونکہ جنگ بدر میں مسلمان 313 تھے اور یہ بھی بےسرو سامان۔ صرف دو گھوڑے اور ستّر اونٹ تھے باقی سب پیدل تھے (ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
123۔ اور اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر میں اس وقت تمہاری مدد کی جبکہ تم کمزور [112] تھے لہذا اس سے ڈرتے رہو۔ اس طرح امید ہے کہ تم شکر گزار بن جاؤ گے
[112] قلت تعداد کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے بدر کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ بدر کے میدان میں تم ہر لحاظ سے کمزور تھے۔ تعداد بھی کم تھی۔ اسلحہ جنگ اور رسد بھی بہت کم ھی تو ان حالات میں جب اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کر چکا ہے تو اے کمزوری دکھانے والے اور دل چھوڑنے والے مسلمانو! اب وہ تمہاری مدد کیوں نہ کرے گا؟ پس تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈرتے رہو اور اس بات پر اللہ کا شکر ادا کیا کرو کہ اللہ تعالیٰ ہر آڑے وقت میں مسلمانوں کی نصرت کے لیے غیب سے سامان مہیا کر دیتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو اپنا احسان یاد دلایا ہے، اور انھیں اپنی وہ مدد یا ددلائی ہے جو بدر کے موقع پر ہوئی۔ جب وہ کمزور تھے، ان کی تعداد بھی کم تھی، اور سامان بھی۔ جبکہ دشمنوں کی تعداد اور سامان جنگ کی مقدار بہت زیادہ تھی۔ غزوۂ بدر ہجرت کے دوسرے سال واقع ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے تین سو دس سے چند افراد زیادہ کی تعداد میں اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ہمراہ روانہ ہوئے۔ ان کے پاس صرف ستر اونٹ اور دو گھوڑے تھے۔ آپ قریش کے تجارتی قافلہ کے تعاقب میں نکلے تھے جو شام سے آرہا تھا۔ مشرکین کو اطلاع ملی تو وہ اپنے قافلے کوبچانے کے لیے پوری طرح تیار ہوکر مکہ مکرمہ سے نکلے۔ وہ تقریباً ایک ہزار جنگجو تھے جن کے پاس مکمل سامان رسد، بکثرت ہتھیار اور بہت سے گھوڑے موجود تھے۔ ان کا مسلمانوں سے آمنا سامنا ایک چشمے کے پاس ہوا، جسے ”بدر“ کہتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔ جنگ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عظیم مدد فرمائی، چنانچہ انھوں نے مشرکین کے ستر بہادر سردار قتل کیے اور ستر کو جنگی قیدی بنایا اور ان کی لشکر گاہ پر قبضہ کرلیا۔ جیسے سورۂ انفال میں ان شاء اللہ بیان ہوگا۔ اس کی تفصیل کا اصل مقام وہی ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر صرف اس لیے کیا ہے کہ مسلمان اس سے نصیحت حاصل کرتے ہوئے اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اور اس کا شکر کریں، اس لیے فرمایا: ﴿ فَاتَّقُوااللّٰهَلَعَلَّكُمْتَشْكُرُوْنَ ﴾”اللہ ہی سے ڈرو، تاکہ تم شکر گزار بن جاؤ“ کیونکہ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے وہی اس کا شکر ادا کرتا ہے۔ جو تقویٰ ترک کردیتا ہے، وہ شکر گزار نہیں ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وإذ {نصركم الله ببدر وأنتم أذلة}؛ في عَددكم وعِددكم، فكانوا ثلاثمائة وبضعة عشر في قلة ظهْرٍ ورثاثة سلاح، وأعداؤهم يناهزون الألف في كمال العدة والسلاح {فاتقوا الله لعلكم تشكرون}؛ الذي أنعم عليكم بنصره.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔