تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ آل عمران (3) — آیت 122

اِذۡ ہَمَّتۡ طَّآئِفَتٰنِ مِنۡکُمۡ اَنۡ تَفۡشَلَا ۙ وَ اللّٰہُ وَلِیُّہُمَا ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾
جب تم میں سے دو جماعتوں نے ارادہ کیا کہ ہمت ہار دیں، حالانکہ اللہ ان دونوں کا دوست تھا اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔ En
اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دینا چاہا مگر خدا ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیئے
En
جب تمہاری دو جماعتیں پست ہمتی کا اراده کر چکی تھیں، اللہ تعالیٰ انکا ولی اور مددگار ہے۔ اور اسی کی پاک ذات پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ کی مومنوں پر مہربانی اور احسان اس طرح بھی ہوا کہ ﴿ اِذْ هَمَّتْ طَّآىِٕفَتٰ٘نِ جب مومنوں کی دو جماعتیں پست ہمتی کا ارادہ کرچکی تھیں، اور وہ بنو سلمہ اور بنو حارثہ تھے، جیسے پہلے بیان ہوا۔ اللہ نے ان پر اور تمام مومنوں پر احسان کرتے ہوئے انھیں ثابت قدمی کی توفیق بخشی، اس لیے فرمایا: ﴿ وَاللّٰهُ وَلِیُّهُمَا اللہ ان کا ولی اور مددگار ہے یہاں اللہ تعالیٰ کی خاص ولایت مراد ہے، یعنی اس کی اپنے دوستوں پر مہربانی، انھیں ایسے کاموں کی توفیق دینا جن میں ان کا فائدہ ہو، اور ایسے کاموں سے محفوظ رکھنا، جن میں ان کا نقصان ہو۔ اس کا ایک مظہر یہ بھی تھا کہ جب انھوں نے اس گناہ کا ارادہ کیا کہ وہ پست ہمتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدان جنگ سے چلے جائیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں تو اللہ تعالیٰ نے انھیں اس غلطی سے بچالیا، کیونکہ ان میں ایمان موجود تھا۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ اَللّٰهُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ۙ یُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمٰؔتِ اِلَى النُّوْرِ (البقرۃ:2؍257) اللہ مومنوں کا دوست اور مددگار ہے، انھیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکال لاتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا: ﴿ وَعَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَؔكَّلِ الْ٘مُؤْمِنُوْنَ اور اللہ ہی کی ذات پر مومنوں کو بھروسا کرنا چاہیے اس میں توکل کا حکم ہے توکل کا مطلب یہ ہے کہ فائدہ مند اشیاء کے حصول کے لیے اور نقصان سے بچنے کے لیے اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے دل کا سہارا اللہ پر ہو۔ بندے کو اللہ پر جتنا ایمان ہوتا ہے، اس کے مطابق اس کا توکل ہوتا ہے۔ اس آیت میں یہ اشارہ بھی ہے کہ دوسروں کی نسبت مومن اللہ پر توکل کرنے کا زیادہ حق رکھتے ہیں۔ بالخصوص سختی اور جہاد کے موقع پر انھیں اللہ پر توکل کرنا، اس سے مدد اور فتح طلب کرنا، اپنی طاقت پر بالکل بھروسا نہ کرنا، بلکہ اللہ کی قوت اور حفاظت پربھروسا کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی برکت سے ان کی مدد کرتا ہے اور ان کی مصیبتیں اور مشکلات دور فرماتا ہے۔ اس کے بعد فرمایا:
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إذ همت طائفتان منكم أن تفشلا}؛ وهم بنو سلمة وبنو حارثة لكن تولاهما الباري بلطفه ورعايته وتوفيقه، {وعلى الله فليتوكل المؤمنون}؛ فإنهم إذا توكلوا عليه كفاهم وأعانهم وعصمهم من وقوع ما يضرهم في دينهم ودنياهم.

وفي هذه الآية ونحوها وجوب التوكل وأنه على حسب إيمان العبد يكون توكله، والتوكل: هو اعتماد العبد على ربه في حصول منافعه ودفع مضاره.