تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 9

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَنُدۡخِلَنَّہُمۡ فِی الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۹﴾
اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے اچھے کام کیے ہم انھیں ضرور ہی نیک لوگوں میں داخل کریں گے۔ En
اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم نیک لوگوں میں داخل کریں گے
En
اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور نیک کام کیے انہیں میں اپنے نیک بندوں میں شمار کر لوں گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا، اس نے نیک عمل كيے، اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ وعدہ کر رکھا ہے کہ وہ اسے اپنے نیک بندوں کے ساتھ جنت میں داخل کرے گا، یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ہر ایک کا اپنا اپنا درجہ اور اپنا اپنا مرتبہ ہے۔ ایمان صحیح اور عمل صالح، بندے کی سعادت کا عنوان ہے اور بے شک وہ اہل رحمان میں سے اور اللہ کے نیک بندوں میں سے ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: مَنْ آمن بالله وعمل صالحاً؛ فإنَّ الله وعده أن يُدْخِلَه الجنة في جملة عباد الله الصالحين من النبيِّين والصديقين والشهداء والصالحين، كلٌّ على حسب درجته ومرتبته عند الله؛ فالإيمان الصحيح والعمل الصالح عنوانٌ على سعادة صاحبه، وأنَّه من أهل الرحمن والصالحين من عباد الله.