اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کی تاکید کی ہے اور اگر وہ تجھ پر زور دیں کہ تو میرے ساتھ اس چیز کو شریک ٹھہرائے جس کے بارے میں تجھے کوئی علم نہیں تو ان کا کہنا مت مان، تمھیں میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر میں تمھیں بتائوں گا جو تم کیا کرتے تھے۔
En
اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ (اے مخاطب) اگر تیرے ماں باپ تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جس کی حقیقت کی تجھے واقفیت نہیں۔ تو ان کا کہنا نہ مانیو۔ تم (سب) کو میری طرف لوٹ کر آنا ہے۔ پھر جو کچھ تم کرتے تھے میں تم کو جتا دوں گا
ہم نے ہر انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی نصیحت کی ہے ہاں اگر وه یہ کوشش کریں کہ آپ میرے ساتھ اسے شریک کرلیں جس کا آپ کو علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مانیئے، تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے پھر میں ہر اس چیز سے جو تم کرتے تھے تمہیں خبر دوں گا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی ہم نے انسان کو حکم دیا اور اس کو وصیت کی ہے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئے یعنی وہ اپنے قول و فعل کے ذریعے سے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور اپنے اس رویے کی حفاظت کرے، نیز وہ اپنے قول و فعل میں والدین کی نافرمانی کرے نہ ان کے ساتھ برا سلوک کرے۔ ﴿وَاِنْجَاهَدٰؔكَلِتُشْ٘رِكَبِیْمَالَ٘یْسَلَكَبِهٖعِلْمٌ ﴾”اور اگر وہ (والدین) دونوں تیرے درپے ہوں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک بنائے جبکہ حقیقت سے تجھے واقفیت نہیں۔“ اور کسی کے پاس شرک کی صحت پر کوئی دلیل نہیں۔ اس آیت کریمہ میں شرک کے معاملے کی اہمیت کی بنا پر یہ اسلوب اختیار کیا ہے۔ ﴿ فَلَاتُطِعْهُمَا١ؕاِلَیَّمَرْجِعُكُمْفَاُنَبِّئُكُمْبِمَاكُنْتُمْتَعْمَلُوْنَ ﴾”تو ان کا کہنا نہ ماننا، تم سب کو میری ہی طرف ہی لوٹ کر آنا ہے، پھر جو کچھ تم کرتے تھے میں تم کو بتاؤں گا۔“ پس میں تمھارے اعمال کی جزا دوں گا۔ اس لیے تم اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرو ان کی اطاعت کو ہر شخص کی اطاعت پر مقدم رکھو، سوائے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے کیونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت ہر چیز پر مقدم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: وأمرنا الإنسان ووصَّيْناه بوالديه حُسناً؛ أي: ببرِّهما والإحسان إليهما بالقول والعمل، وأن يحافظَ على ذلك ولا يعقهما ويسيء إليهما في قوله وعمله، {وإن جاهداك} على أن تشرك {بي ما ليسَ لك به علمٌ}: وليس لأحدٍ علمٌ بصحَّة الشرك بالله، وهذا تعظيمٌ لأمر الشرك. {فلا تُطِعْهُما إليَّ مرجِعُكم فأنبِّئُكُم بما كنتُم تعملونَ}: فأجازيكم بأعمالكم؛ فبرُّوا والديكم، وقدِّموا طاعتهما إلاَّ على طاعة الله ورسوله؛ فإنَّها مقدَّمة على كل شيء.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔