55۔ جس دن عذاب انھیں اوپر سے ڈھانپ لے گا اور پاؤں کے نیچے سے بھی اور اللہ تعالیٰ[87] فرمائے گا، جو کچھ تم کرتے رہے اب اس کا مزا چکھو
[87]﴿يَقُوْلُ﴾ کا ایک معنی تو وہی ہے جو ترجمہ میں مذکور ہے اور دوسرا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جہنم کا عذاب خود انھیں یہ بات کہے گا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کو اللہ مال دے اور وہ اس کی زکوٰۃ ادا نہ کرے تو قیامت کے دن اس کا مال ایک گنجے سانپ کی شکل بن کر، جن کی آنکھوں پر دو کالے داغ ہوں گے۔ اس کے گلے کا طوق بن جائے گا پھر اس کی دونوں باچھیں پکڑ کر کہے گا: ”میں تیرا مال ہوں، میں تیرا خزانہ ہوں۔“ [بخاری۔ کتاب الزکوۃ باب اثم مانع الزکوٰۃ]
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔