تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ العنكبوت (29) — آیت 30

قَالَ رَبِّ انۡصُرۡنِیۡ عَلَی الۡقَوۡمِ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۳۰﴾
اس نے کہا اے میرے رب! ان مفسد لوگوں کے خلاف میری مدد فرما۔ En
لوط نے کہا کہ اے میرے پروردگار ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں مجھے نصرت عنایت فرما
En
حضرت لوط (علیہ السلام) نے دعا کی کہ پروردگار! اس مفسد قوم پر میری مدد فرما En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان کا نبی ان سے مایوس ہو گیا اور اسے یقین ہو گیا کہ اس کی قوم عذاب کی مستحق ہے، ان کے بہت زیادہ جھٹلانے کی وجہ سے حضرت لوط بے قرار ہو گئے آپ نے ان کے لیے بددعا کی ﴿ قَالَ رَبِّ انْ٘صُرْنِیْ عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِیْنَ انھوں (لوط علیہ السلام) نے کہا، اے میرے رب! ان مفسد لوگوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کر لی اور ان کی قوم کو ہلاک کرنے کے لیے فرشتے بھیجے۔
حضرت لوط کے پاس جانے سے قبل یہ فرشتے ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرے انھوں نے آپ کو اسحاق کی اور اس کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے پوچھا کہ ان کا کہاں کا ارادہ ہے انھوں نے کہا کہ وہ قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لیے آئے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کے ساتھ بحث کرتے ہوئے کہا: ﴿ اِنَّ فِیْهَا لُوْطًا اس میں تو لوط بھی ہیں۔ فرشتوں نے جواب دیا: ﴿ لَنُنَجِّیَنَّهٗ۠ وَاَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١ٞۗ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ ہم ان کو اور ان کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز ان کی بیوی کے وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔ پھر وہ وہاں سے چلے گئے اور لوط علیہ السلام کے پاس آئے۔ ان کا آنا لوط علیہ السلام کو بہت ناگوار گزرا اور بہت تنگدل ہوئے کیونکہ آپ ان کو پہچان نہ پائے تھے وہ سمجھتے تھے کہ وہ مہمان اور مسافر ہیں اس لیے وہ ان کے بارے میں اپنی قوم کے رویے سے خائف تھے تو فرشتوں نے آپ سے کہا۔ ﴿ لَا تَخَفْ وَلَا تَحْزَنْ خوف کیجیے نہ رنج کیجیے۔ اور انھوں نے لوط علیہ السلام کو بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ﴿ اِنَّا مُنَجُّوْكَ وَاَهْلَكَ اِلَّا امْرَاَتَكَ كَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیْنَ اِنَّا مُنْزِلُوْنَ عَلٰۤى اَهْلِ هٰؔذِهِ الْ٘قَرْیَةِ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ہم آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو بچالیں گے بجز آپ کی بیوی کے کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی۔ بے شک ہم اس بستی کے رہنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں کیونکہ یہ بدکاری کررہے تھے۔ فرشتوں نے لوط علیہ السلام سے کہا کہ وہ اپنے گھر والوں کو لے کر راتوں رات نکل جائیں۔ پس جب صبح ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے گھروں کو ان پر الٹ دیا اور اوپر والا حصہ نیچے کر دیا اور ان پر پے درپے کھنگر کے پتھر برسائے جنھوں نے ان کو ہلاک کر کے نیست و نابود کر دیا، لہٰذا وہ کہانیاں اور عبرت کا نشان بن کر رہ گئے۔
﴿ وَلَقَدْ تَّرَؔكْنَا مِنْهَاۤ اٰیَةًۢ بَیِّنَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ یعنی ہم نے دیار قوم لوط کو عقل مند لوگوں کے لیے واضح آثار اور ان کے دلوں کے لیے عبرت بنا دیا پس وہ ان آثار سے منتفع ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاِنَّـكُمْ لَ٘تَمُرُّوْنَ عَلَیْهِمْ مُّصْبِحِیْنَ۰۰ وَبِالَّیْلِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ (الصافات: 37؍137-138) اور تم دن رات ان کے اجڑے ہوئے گھروں پر گزرتے ہو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فأيس منهم نبيُّهم، وعلم استحقاقهم العذاب، وجزع من شدة تكذيبهم له، فدعا عليهم، و {قال ربِّ انصُرْني على القوم المفسِدين}: فاستجاب الله دعاءَه، فأرسل الملائكةَ لإهلاكِهِم، فمرُّوا بإبراهيم قبل ذلك، وبشَّروه بإسحاقَ ومن وراءِ إسحاقَ يعقوب، ثم سألهم إبراهيمُ: أين يريدون؟ فأخبروه أنَّهم يريدون إهلاكَ قوم لوط، فجعل يراجِعُهم ويقول: {إنَّ فيها لوطاً}، فقالوا له: {لَنُنَجِّيَنَّهُ وأهلَه إلاَّ امرأتَه كانت من الغابرين}: ثم مَضَوْا حتى أتوا لوطاً، فساءه مجيئُهم، وضاق بهم ذَرْعاً؛ بحيث إنه لم يعرِفْهم، وظنَّ أنَّهم من جملة أبناء السبيل الضيوف، فخاف عليهم من قومه، فقالوا له: {لا تَخَفْ ولا تَحْزَنْ}: وأخبروه أنَّهم رسل الله، {إنَّا منجُّوك وأهْلَكَ إلاَّ امرأتَكَ كانت من الغابرين. إنَّا منزلون على أهل هذه القرية رجزاً}؛ أي: عذاباً {من السماء بما كانوا يَفْسُقون}: فأمروه أن يَسْرِيَ بأهله ليلاً، فلما أصبحوا؛ قَلَبَ الله عليهم ديارهم، فجعل عاليها سافلها، وأمطر عليهم حجارةً من سِجِّيل متتابعة حتى أبادتهم وأهلكتهم فصاروا سمراً من الأسمار وعبرةً من العبر. {ولقد تَرَكْنا منها آيةً بَيِّنَةً لقوم يعقلونَ}؛ أي: تركنا من ديار قوم لوط آثاراً بيِّنة لقوم يعقلون العِبَرَ بقلوبهم فينتفعونَ بها؛ كما قال تعالى: {وإنَّكُم لَتَمُرُّونَ عليهم مصبحينَ. وبالليلِ أفلا تعقِلونَ}.