اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ میرے لیے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، امید ہے کہ وہ ہمیں فائدہ پہنچائے، یا ہم اسے بیٹا بنا لیں اور وہ سمجھتے نہ تھے۔
En
اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ) میری اور تمہاری (دونوں کی) آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا۔ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اُسے بیٹا بنالیں اور وہ انجام سے بےخبر تھے
اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائده پہنچائے یا ہم اسے اپنا ہی بیٹا بنا لیں اور یہ لوگ شعور ہی نہ رکھتے تھے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پس جب فرعون کے گھر والوں نے موسیٰ علیہ السلام کو دریا سے نکال لیا تو اللہ تعالیٰ نے فرعون کی جلیل القدر اور مومنہ بیوی آسیہ بنت مزاحم کے دل میں رحم ڈال دیا۔ ﴿ وَقَالَتِ ﴾”وہ بولی“ یہ لڑکا ﴿ قُ٘رَّتُعَیْنٍلِّیْوَلَكَ١ؕلَاتَقْتُلُوْهُ﴾”میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے“ یعنی اسے زندہ رکھ لو تاکہ اس کے ذریعے سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں اور اپنی زندگی میں اس کے ذریعے سے مسرت حاصل کریں۔ ﴿ عَسٰۤىاَنْیَّنْفَعَنَاۤاَوْنَتَّؔخِذَهٗوَلَدًا ﴾”شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنالیں۔“ یعنی یہ بچہ ان خدام میں شامل ہو گا جو ہمارے مختلف کام کرنے اور خدمات سرانجام دینے میں کوشاں رہتے ہیں یا اس سے بلندتر مرتبہ عطا کر کے اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے اور اس کی عزت و تکریم کریں گے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے مقدر فرما دیا کہ وہ بچہ فرعون کی بیوی کو فائدہ دے جس نے یہ بات کہی تھی۔ جب وہ بچہ فرعون کی بیوی کی آنکھوں کی ٹھنڈک بن گیا اور اسے اس بچے سے شدید محبت ہو گئی اور وہ بچہ اس کے لیے حقیقی بیٹے کی حیثیت اختیار کر گیا یہاں تک کہ وہ بڑا ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو نبوت اور رسالت سے سرفراز فرمایا… تو اس نے جلدی سے ایمان لا کر اسلام قبول کر لیا۔ رضی اللہ عنہا
موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کے مابین ہونے والی مذکورہ گفتگو کی بابت اللہ نے فرمایا: ﴿ وَّهُمْلَایَشْ٘عُرُوْنَ ﴾ یعنی انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ لوح محفوظ میں کیا درج ہے تقدیر نے انھیں کس عظیم الشان مقام پر فائز کر دیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا لطف و کرم ہے۔ اگر انھیں اس حقیقت کا علم ہوتا تو ان کا اور موسیٰ علیہ السلام کا معاملہ کچھ اور ہی ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما التَقَطَهُ آلُ فرعون؛ حنَّن اللهُ عليه امرأة فرعون الفاضلة الجليلة المؤمنة آسية بنت مزاحم، {وقالت}: هذا الولدُ {قُرَّةُ عينٍ لي ولكَ لا تَقْتُلوهُ}؛ أي: أبقِهِ لنا لِتَقَرَّ به أعينُنا، ونُسَرَّ به في حياتنا، {عسى أن يَنفَعَنا أو نَتَّخِذَه ولداً}؛ أي: لا يخلو: إمَّا أن يكونَ بمنزلة الخدم الذين يَسْعَونَ في نفعنا وخدمتنا، أو نرقِّيه درجةً أعلى من ذلك؛ نجعلُهُ ولداً لنا ونكرِمُه ونُجِلُّه. فقدَّر الله تعالى أنَّه نَفَعَ امرأةَ فرعونَ التي قالت تلك المقالة؛ فإنَّه لما صار قُرَّةَ عينٍ لها وأحبَّتْه حبًّا شديداً، فلم يزلْ لها بمنزلة الولد الشفيق، حتى كَبُرَ، ونبَّأه الله، وأرسلَه، فبادرتْ إلى الإسلام والإيمان به، رضي الله عنها، وأرضاها. قال الله تعالى [عن] هذه المراجعاتِ والمقاولاتِ في شأن موسى: {وهم لا يشعرونَ}: ما جرى به القلمُ، ومضى به القدرُ من وصولِهِ إلى ما وَصَلَ إليه. وهذا من لطفِهِ تعالى؛ فإنَّهم لو شَعَروا؛ لكان لهم وله شأنٌ آخر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔