تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرعون کی بیوی کا نام آسیہ بتایا ہے۔ یہ خاتون دنیا کی سب سے بلند مرتبہ خواتین میں سے ایک تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيْرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَ إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَی النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيْدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «و ضرب اللہ مثلا…» : ۳۴۱۱، عن أبي موسیٰ رضی اللہ عنہ] ”مردوں میں سے بہت سے کامل ہوئے ہیں، مگر عورتوں میں فرعون کی بیوی آسیہ اور عمران کی بیٹی مریم کے سوا کوئی کامل نہیں ہوئی اور عائشہ کی عورتوں پر برتری ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی برتری تمام کھانوں پر۔“ آسیہ علیھا السلام کے متعلق مزید دیکھیے سورۂ تحریم (۱۱)۔
➌ { عَسٰۤى اَنْ يَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا:} اس سے معلوم ہوا کہ فرعون اولاد سے محروم تھا۔ اللہ کی شان دیکھیے کہ{” اَنَا رَبُّكُمْ الْاَعْلٰي “} کا دعویٰ کرنے والا اولاد کی خواہش رکھنے کے باوجود اولاد حاصل نہیں کر سکا۔ لوگوں کے بنائے ہوئے بہت سے مشکل کُشا اور حاجت روا، جن سے لوگ اولاد مانگتے ہیں، دنیا سے بے اولاد ہی رخصت ہو گئے۔ لاہور میں مدفون مشہور بزرگ علی ہجویری کی خود اولاد نہیں تھی، مگر لوگ ہیں کہ انھیں داتا (رازق) اور گنج بخش (خزانے عطا کرنے والا) کہہ کر ان سے مال و اولاد مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرمائے۔
➍ آسیہ علیھا السلام نے موسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو کچھ کہا اللہ تعالیٰ نے اسے سچ کر دکھایا، آپ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بھی بنے اور اسے وہ نفع پہنچایا جو کم ہی کسی بچے نے اپنی پالنے والی کو پہنچایا ہو گا۔ اگر فرعون بھی یہ الفاظ کہتا تو شاید اسے بھی یہ سعادت مل جاتی، مگر ظالموں کو ایسی ہدایت نہیں ملتی، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ }» [البقرۃ: ۲۵۸] ”اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔“
➎ { وَ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ:} یعنی انھیں یہ خیال تک نہ تھا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر ہمارے زوال اور ہماری ہلاکت کا باعث بنے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما التَقَطَهُ آلُ فرعون؛ حنَّن اللهُ عليه امرأة فرعون الفاضلة الجليلة المؤمنة آسية بنت مزاحم، {وقالت}: هذا الولدُ {قُرَّةُ عينٍ لي ولكَ لا تَقْتُلوهُ}؛ أي: أبقِهِ لنا لِتَقَرَّ به أعينُنا، ونُسَرَّ به في حياتنا، {عسى أن يَنفَعَنا أو نَتَّخِذَه ولداً}؛ أي: لا يخلو: إمَّا أن يكونَ بمنزلة الخدم الذين يَسْعَونَ في نفعنا وخدمتنا، أو نرقِّيه درجةً أعلى من ذلك؛ نجعلُهُ ولداً لنا ونكرِمُه ونُجِلُّه. فقدَّر الله تعالى أنَّه نَفَعَ امرأةَ فرعونَ التي قالت تلك المقالة؛ فإنَّه لما صار قُرَّةَ عينٍ لها وأحبَّتْه حبًّا شديداً، فلم يزلْ لها بمنزلة الولد الشفيق، حتى كَبُرَ، ونبَّأه الله، وأرسلَه، فبادرتْ إلى الإسلام والإيمان به، رضي الله عنها، وأرضاها. قال الله تعالى [عن] هذه المراجعاتِ والمقاولاتِ في شأن موسى: {وهم لا يشعرونَ}: ما جرى به القلمُ، ومضى به القدرُ من وصولِهِ إلى ما وَصَلَ إليه. وهذا من لطفِهِ تعالى؛ فإنَّهم لو شَعَروا؛ لكان لهم وله شأنٌ آخر.