ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 9

وَ قَالَتِ امۡرَاَتُ فِرۡعَوۡنَ قُرَّتُ عَیۡنٍ لِّیۡ وَ لَکَ ؕ لَا تَقۡتُلُوۡہُ ٭ۖ عَسٰۤی اَنۡ یَّنۡفَعَنَاۤ اَوۡ نَتَّخِذَہٗ وَلَدًا وَّ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۹﴾
اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ میرے لیے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، امید ہے کہ وہ ہمیں فائدہ پہنچائے، یا ہم اسے بیٹا بنا لیں اور وہ سمجھتے نہ تھے۔ En
اور فرعون کی بیوی نے کہا کہ (یہ) میری اور تمہاری (دونوں کی) آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اس کو قتل نہ کرنا۔ شاید یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اُسے بیٹا بنالیں اور وہ انجام سے بےخبر تھے
En
اور فرعون کی بیوی نے کہا یہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، بہت ممکن ہے کہ یہ ہمیں کوئی فائده پہنچائے یا ہم اسے اپنا ہی بیٹا بنا لیں اور یہ لوگ شعور ہی نہ رکھتے تھے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 9) ➊ { وَ قَالَتِ امْرَاَتُ فِرْعَوْنَ قُرَّتُ عَيْنٍ لِّيْ وَ لَكَ …:} فرعون اور اس کی بیوی نے صندوق کھلوایا تو اس میں سے نہایت خوب صورت اور پیارا بچہ نکلا، جس میں اللہ تعالیٰ نے ایسی کشش رکھ دی تھی کہ جو دیکھے اس سے محبت کرنے لگے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّيْ [طٰہٰ: ۳۹]اور میں نے تجھ پر اپنی طرف سے ایک محبت ڈال دی۔ مگر جس طریقے سے یہ بچہ آیا تھا اس سے صاف ظاہر تھا کہ یہ بنی اسرائیل کے کسی آدمی کا بچہ ہے، جس نے ذبح ہونے سے بچانے کے لیے اسے دریا کے حوالے کر دیا ہے، اس لیے فرعون اور اس کے خونخوار ساتھیوں نے اصرار کیا کہ اسے ہر حال میں ذبح کیا جائے، مگر فرعون کی بیوی کہنے لگی کہ یہ میری اور تیری آنکھ کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل مت کرو۔ فرعون کی بیوی کا یہ کہنا کہ اسے قتل مت کرو اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ لوگ اسے قتل کرنے کے درپے ہو چکے تھے۔
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرعون کی بیوی کا نام آسیہ بتایا ہے۔ یہ خاتون دنیا کی سب سے بلند مرتبہ خواتین میں سے ایک تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيْرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَ إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَی النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيْدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی: «‏‏‏‏و ضرب اللہ مثلا…» : ۳۴۱۱، عن أبي موسیٰ رضی اللہ عنہ] مردوں میں سے بہت سے کامل ہوئے ہیں، مگر عورتوں میں فرعون کی بیوی آسیہ اور عمران کی بیٹی مریم کے سوا کوئی کامل نہیں ہوئی اور عائشہ کی عورتوں پر برتری ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی برتری تمام کھانوں پر۔ آسیہ علیھا السلام کے متعلق مزید دیکھیے سورۂ تحریم (۱۱)۔
➌ { عَسٰۤى اَنْ يَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا:} اس سے معلوم ہوا کہ فرعون اولاد سے محروم تھا۔ اللہ کی شان دیکھیے کہ{ اَنَا رَبُّكُمْ الْاَعْلٰي } کا دعویٰ کرنے والا اولاد کی خواہش رکھنے کے باوجود اولاد حاصل نہیں کر سکا۔ لوگوں کے بنائے ہوئے بہت سے مشکل کُشا اور حاجت روا، جن سے لوگ اولاد مانگتے ہیں، دنیا سے بے اولاد ہی رخصت ہو گئے۔ لاہور میں مدفون مشہور بزرگ علی ہجویری کی خود اولاد نہیں تھی، مگر لوگ ہیں کہ انھیں داتا (رازق) اور گنج بخش (خزانے عطا کرنے والا) کہہ کر ان سے مال و اولاد مانگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سمجھ عطا فرمائے۔
➍ آسیہ علیھا السلام نے موسیٰ علیہ السلام کے متعلق جو کچھ کہا اللہ تعالیٰ نے اسے سچ کر دکھایا، آپ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بھی بنے اور اسے وہ نفع پہنچایا جو کم ہی کسی بچے نے اپنی پالنے والی کو پہنچایا ہو گا۔ اگر فرعون بھی یہ الفاظ کہتا تو شاید اسے بھی یہ سعادت مل جاتی، مگر ظالموں کو ایسی ہدایت نہیں ملتی، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ [البقرۃ: ۲۵۸] اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
➎ { وَ هُمْ لَا يَشْعُرُوْنَ:} یعنی انھیں یہ خیال تک نہ تھا کہ یہ بچہ بڑا ہو کر ہمارے زوال اور ہماری ہلاکت کا باعث بنے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

9-1یہ اس وقت کہا جب تابوت میں ایک حسین و جمیل بچہ انہوں نے دیکھا۔ بعض کے نزدیک یہ اس وقت کا قول ہے جب موسیٰ ؑ نے فرعون کی داڑھی کے بال نوچ لئے تھے تو فرعوں نے ان کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمع کا صیغہ یا تو اکیلے فرعون کے لئے بطور تعظیم کے کہا یا ممکن ہے وہاں اس کے کچھ درباری موجود رہے ہوں۔ 9-2کیونکہ فرعون اولاد سے محروم تھا۔ -9-3کہ یہ بچہ جسے وہ اپنا بچہ بنا رہے ہیں، یہ تو وہی بچہ ہے جس کو مارنے کے لئے سینکڑوں بچوں کو موت کی نید سلا دیا گیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

9۔ اور فرعون کی بیوی فرعون سے کہنے لگی: یہ بچہ تو میری اور تیری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، [14] اسے قتل نہ کرو، کیا عجیب کہ یہ ہمارے لئے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں اور وہ (اس کے انجام سے) بے خبر [15] تھے۔
[14] اپنی بیوی کی درخواست پر فرعون کا سیدنا موسیٰؑ کو جہنمی بنانا اور پرورش کرنا:۔
اب ظاہری قیاس سے تو یہی معلوم ہو رہا تھا کہ یہ بچہ کسی بنی اسرائیل کے فرد کا ہی ہو سکتا ہے جس نے بچہ کے قتل کے خطرہ کی وجہ سے اس کے قتل ہونے سے بہتر یہی سمجھا کہ اسے دریا کے سپرد کر دیا جائے۔ اس لحاظ سے فرعون کو یہ بچہ فوراً مار ڈالنا چاہئے تھا۔ مگر بچے کی صورت ایسی پیاری اور پرکشش تھی کہ فرعون کی بیوی آسیہ، جس کے متعلق قرآن نے ایک دوسرے مقام پر تصریح کر دی ہے کہ وہ فرعون کے ایسے ظالمانہ کاموں سے سخت بیزار تھی، نے جب یہ بچہ دیکھا تو فوراً اس کا دل محبت سے بھر آیا۔ مفسرین کہتے ہیں کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس کے ہاں اولاد نہ تھی۔ چنانچہ وہ فوراً کہنے لگی کہ یہ بچہ تو بہت پیارا ہے کہ جسے دیکھ کر ہی دل خوش ہو جاتا ہے اور ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔ لہٰذا ہم خود اس کی تربیت کریں گے۔ اسے قتل کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں۔ پھر یہ بچہ ہمارے لئے مفید بھی ہو سکتا ہے۔ جب اس کی پرورش کریں گے تو یہ ہمارا ہی بچہ ہے۔ اسے کیا خبر ہو سکتی ہے کہ اس کا بنی اسرائیل کے کسی فرد سے بھی کچھ تعلق ہے۔ اگر ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں گے تو اس کی ساری اہلیتیں بنی اسرائیل کے بجائے ہمارے کام آ سکتی ہیں۔ لہٰذا اسے متبنّیٰ بنا لینے میں ہمیں بہت سے فائدے حاصل ہو سکتے ہیں۔
[15] تدبیر کند بندہ تقدیر کند خندہ:۔
یعنی ان دونوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ جو باتیں وہ کر رہے ہیں وہ خود نہیں کر رہے بلکہ مشیت الٰہی ان کے منہ سے یہ الفاظ نکلوا رہی ہے۔ یا انھیں کیا خبر تھی کہ جس بچہ کو مارنے کی خاطر انہوں نے ہزارہا بچے قتل کر دیئے ہیں یا کر رہے ہیں وہ بچہ ان کے اپنے ہاتھ میں جسے یہ اپنا متبنّیٰ بنانے کے مشورے کر رہے ہیں یا یہ کہ جس بچہ پر اس وقت ان کا اتنا دل بھر آیا ہے۔ وہی ان کا دشمن بن جائے گا۔ اور اسی کے ہاتھوں ان کی اور ان کی حکومت کی تباہی واقع ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔