اور موسیٰ کی ماں کا دل خالی ہوگیا۔ یقینا وہ قریب تھی کہ اسے ظاہر کر ہی دیتی، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ہم نے اس کے دل پر بند باندھ دیا تھا، تاکہ وہ ایمان والوں میں سے ہو۔
En
اور موسٰی کی ماں کا دل بے صبر ہو گیا اگر ہم اُن کے دل مضبوط نہ کر دیتے تو قریب تھا کہ وہ اس (قصّے) کو ظاہر کر دیں۔ غرض یہ تھی کہ وہ مومنوں میں رہیں
موسیٰ (علیہ السلام) کی والده کا دل بے قرار ہوگیا، قریب تھیں کہ اس واقعہ کو بالکل ﻇاہر کر دیتیں اگر ہم ان کے دل کو ڈھارس نہ دے دیتے یہ اس لیے کہ وه یقین کرنے والوں میں رہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب موسیٰ علیہ السلام اپنی والدہ سے جدا ہو گئے تو وہ بہت زیادہ غمگین ہوئیں۔ بشری تقاضے کے مطابق صدمے اور قلق سے ان کا دل سخت بے قرار اور غم سے اڑا جا رہا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو غم کرنے اور خوف زدہ ہونے سے روک دیا تھا اور ان سے وعدہ کیا تھا کہ وہ موسیٰ علیہ السلام کو واپس ان کے پاس لوٹا دے گا۔ ﴿اِنْكَادَتْلَتُبْدِیْبِهٖ﴾”تو قریب تھا کہ وہ اس (قصے) کو ظاہر کردیں۔“ یعنی دلی صدمے کی وجہ سے ﴿ لَوْلَاۤاَنْرَّبَطْنَاعَلٰىقَلْبِهَا ﴾ پس ہم نے ان کو ثابت قدمی عطا کی اور انھوں نے صبر کیا اور اس راز کو ظاہر نہ کیا۔ ﴿ لِتَكُوْنَ ﴾”تاکہ ہوجائے وہ“ صبر و ثبات کو یاد رکھتے ہوئے ﴿ مِنَالْمُؤْمِنِیْنَ ﴾”مومنوں میں سے“ جب بندۂ مومن پر کوئی مصیبت نازل ہو جائے اور وہ اس پر صبر اور ثابت قدمی سے کام لے تو اس سے اس کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ بندے کا مصیبت کے وقت بے صبری کا مظاہرہ کرنا ایمان کی کمزوری ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولما فقدتْ موسى أمُّه حزنت حزناً شديداً، وأصبحَ فؤادُها فارغاً من القلق الذي أزعجها على مقتضى الحالة البشريَّة، مع أنَّ الله تعالى نهاها عن الحزن والخوف، ووعدها بردِّه. {إن كادَتْ لَتُبْدي به}؛ أي: بما في قلبها {لولا أن رَبَطْنا على قَلْبها}: فثبَّتْناها، فصبرتْ ولم تُبْدِ به؛ {لتكونَ}: بذلك الصبر والثبات {من المؤمنينَ}: فإنَّ العبد إذا أصابتْه مصيبةٌ فصبر وثبتَ؛ ازداد بذلك إيمانُه، ودلَّ ذلك على أنَّ استمرار الجزع مع العبد دليلٌ على ضعف إيمانه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔