اور تیرا رب پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے اور چن لیتا ہے، ان کے لیے کبھی بھی اختیار نہیں، اللہ پاک ہے اور بہت بلند ہے، اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔
En
اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور (جسے چاہتا ہے) برگزیدہ کرلیتا ہے۔ ان کو اس کا اختیار نہیں ہے۔ یہ جو شرک کرتے ہیں خدا اس سے پاک وبالاتر ہے
اور آپ کا رب جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے چن لیتا ہے، ان میں سے کسی کو کوئی اختیار نہیں، اللہ ہی کے لیے پاکی ہے وه بلند تر ہے ہر اس چیز سے کہ لوگ شریک کرتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک وتعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ اس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا پھر ان میں اپنی مشیت نافذ کی اور وہ اپنے اختیار میں متفرد ہے۔ وہ اشخاص، اوامر، ازمان اور اماکن میں سے جو چاہتا ہے چن کر مختص کر لیتا ہے کسی کو اس معاملے میں کوئی اختیار نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شریکوں، مددگاروں، اولاد اور بیوی وغیرہ سے منزہ اور مبرا ہے جنھیں یہ مشرکین اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان تمام امور کو خوب جانتا ہے جنھیں یہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں اور جنھیں یہ ظاہر کرتے ہیں۔ وہ اکیلا ہی دنیا و آخرت میں اپنی صفات جمال و کمال اور اپنی مخلوق پر احسان و اکرام کی بنا پر مستحق عبادت اور لائق ستائش ہے۔ وہی دنیا و آخرت میں فیصلے کرنے والا ہے، دنیا میں اپنے حکم کونی و قدری کے مطابق فیصلے کرتا ہے جو تمام مخلوق میں جاری و ساری ہیں اور وہ اپنے حکم دینی کے مطابق فیصلے کرتا ہے جس سے تمام شرائع اوامر و نواہی وجود میں آتے ہیں۔ وہ آخرت میں بھی اپنے حکم قدری و جزائی کے مطابق فیصلے کرے گا اس لیے فرمایا: ﴿ وَاِلَیْهِتُرْجَعُوْنَ ﴾”اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔“ تب وہ تم میں سے ہر ایک کو اس کے اچھے اور برے عمل کی جزا دے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الآياتُ فيها عمومُ خلقِهِ لسائر المخلوقات، ونفوذُ مشيئَتِهِ بجميع البريَّات، وانفرادُهُ باختيار من يختارُهُ ويختصُّه من الأشخاص والأوامر والأزمان والأماكن، وأنَّ أحداً ليس له من الأمر والاختيار شيءٌ، وأنَّه تعالى منزَّه عن كلِّ ما يشركون به من الشريك والظهير والعَوين والولد والصاحبة ونحو ذلك مما أشرك به المشركون، وأنَّه العالمُ بما أكنَّتْهُ الصدور وما أعلنوه، وأنَّه وحدَه المعبودُ المحمودُ في الدنيا والآخرة على ما له من صفاتِ الجلال والجمال، وعلى ما أسداه إلى خلقِهِ من الإحسان والإفضال، وأنَّه هو الحاكم في الدارين؛ في الدُّنيا بالحكم القدريِّ الذي أثَرُهُ جميعُ ما خَلَقَ وذَرَأ، والحكم الدينيِّ الذي أثَرُهُ جميعُ الشرائع والأوامر والنواهي. وفي الآخرة يحكم بحكمِهِ القدريِّ والجزائيِّ، ولهذا قال: {وإليه تُرْجَعونَ}: فيجازي كلًّا منكم بعملِهِ من خيرٍ وشرٍّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔