تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ:} بندوں کے پاس یہ اختیار کبھی بھی نہ تھا، نہ ہے کہ وہ اپنی مرضی سے جسے چاہیں چن لیں، ({كَانَ} میں نفی کا استمرار ہے) پھر ان مشرکین کو یہ اختیار کہاں سے مل گیا کہ رب تعالیٰ کے بندوں کو رب تعالیٰ کے اختیارات کا مالک بنا دیں، جو اس نے کسی کو دیے ہی نہیں، نہ ان اختیارات کا مالک اس کے سوا کوئی ہو سکتا ہے۔ آخر انھیں کس نے یہ اختیار دیا کہ اس کے بندوں میں سے جسے چاہیں مشکل کُشا بنا لیں، جسے چاہیں داتا (رزاق)، گنج بخش، فریاد رس یا دستگیر قرار دے دیں۔ اولاد، رزق، فتح و شکست، عزت و ذلت، شفا و مرض، زندگی اور موت کے محکمے، جو اس نے کسی کو دیے ہی نہیں، اپنے بنائے ہوئے شریکوں میں تقسیم کرتے پھریں۔
➌ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض لوگ جو کہتے ہیں کہ انبیاء یا اولیاء کو یہاں تک اختیار حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ کمان سے نکلا ہوا تیر بھی واپس لے آتے ہیں اور تقدیر کا لکھا تک مٹا دیتے ہیں، یا بدل دیتے ہیں، جسے چاہتے ہیں نواز دیتے ہیں، جسے چاہتے ہیں راندۂ درگاہ بنا دیتے ہیں، یہ سب کفریہ باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سوا نہ کسی کے پاس یہ اختیار ذاتی طور پر ہے، نہ اللہ تعالیٰ نے کسی کو یہ اختیار دیا ہے، فرمایا: «{ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ }» ”ان کے لیے کبھی بھی اختیار نہیں۔“
➍ { سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ:} یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کے پاس اختیار ہونا اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے عیب ہے کہ وہ اکیلا سب کچھ کرنے پر قادر نہیں اور اس کی شان کو گرا دینے والی بات ہے، اس لیے فرمایا: ”اللہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بناتے ہیں۔“ {”عَلَا يَعْلُوْ عُلْوًا“} (بلند ہونا) اور {”تَعَالٰي يَتَعَالٰي تَعَالِيًا“} (بہت بلند ہونا)۔ معلوم ہوا کہ اس کارخانۂ قدرت میں کسی بندے کو، چاہے وہ ولی یا پیغمبر ہی کیوں نہ ہو، کوئی اختیار نہیں ہے۔ تمام اختیارات صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔ {” سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ “} کے الفاظ اکٹھے قرآن میں صرف اسی ایک مقام پر آئے ہیں۔
➎ دنیا میں بندے کو عمل کرنے یا نہ کرنے کا جو اختیار دیا گیا ہے، جس پر اسے ثواب یا عذاب ہو گا، اس کے اوپربھی اللہ تعالیٰ ہی کا اختیار ہے۔ اس لیے یہ کہنا حق ہے کہ مخلوق کو کوئی اختیار نہیں۔ قرآن و حدیث کے مطابق یہ دو باتیں ماننا ضروری ہیں، ایک یہ کہ بندے کو اسباب کے تحت بعض اشیاء میں اختیار دیا گیا ہے، چاہے تو کفر کا راستہ اختیار کرے اور چاہے تو شکر کا۔ وہ مجبور محض نہیں کہ کسی عمل میں اسے کسی طرح کا اختیار بھی نہ ہو، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا }» [الدھر: ۳] ”بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھایا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ ناشکرا۔“ دوسری بات یہ کہ بندے کو یہ اختیار بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار کے تحت ہے، وہ نہ چاہے تو بندہ نہ کوئی ارادہ کر سکتا ہے نہ عمل۔ جیسا کہ سورۂ دہر میں فرمایا: «{ وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيْمًا حَكِيْمًا }» [الدھر: ۳۰] ”اور تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے، یقینا اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔“ یہ اللہ کی تقدیر ہے، جس پر ایمان رکھنا لازم ہے، جو اس پر ایمان نہ رکھے مومن نہیں۔ رہی یہ بات کہ ایسا کیوں ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ مالک ہے جو چاہے کرے، نہ کسی کو اس سے پوچھنے کا حق ہے نہ اختیار، جیسا کہ فرمایا: «{ لَا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَ هُمْ يُسْـَٔلُوْنَ }» [الأنبیاء: ۲۳] ”اس سے نہیں پوچھا جاتا اس کے متعلق جو وہ کرے اور ان سے پوچھاجاتا ہے۔“ مگر یہ بات یقینی ہے کہ اس کا ہر کام علم و حکمت پر مبنی ہے۔ مخلوق کو اس کے علم اور حکمت تک رسائی نہ ہے نہ ہو سکتی ہے، اس لیے اسے اپنی اوقات میں رہنا لازم ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہی لفظ اسی معنی میں آیت «وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ» ۱؎ [33-الأحزاب:36] میں ہے دنوں جگہ «ما» نافیہ ہے۔ گو ابن جریررحمہ اللہ نے یہ کہا کہ «ما» معنی میں «الَّذِیْ» کے ہے یعنی اللہ پسند کرتا ہے اسے جس میں بھلائی ہو اور اس معنی کو لے کر معتزلیوں نے مراعات صالحین پر استدلال کیا ہے لیکن صحیح بات یہی ہے کہ یہاں «ما» نفی کے معنی میں ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے۔
یہ آیت اسی بیان میں ہے کہ مخلوق کی پیدائش میں تقدیر کے مقرر کرنے میں اختیار رکھنے میں اللہ ہی اکیلا ہے اور نظیر سے پاک ہے۔ اسی لیے آیت کے خاتمہ پر فرمایا کہ ’ جب بتوں وغیرہ کو وہ شریک الٰہی ٹھہرا رہے ہیں جو نہ کسی چیز کو بناسکیں نہ کسی طرح اختیار رکھیں اللہ ان سب سے پاک اور بہت دور ہے ‘۔
پھر فرمایا ’ سینوں اور دلوں میں چھپی ہوئی باتیں بھی اللہ جانتا ہے اور وہ سب بھی اس پر اسی طرح ظاہر ہیں جس طرح کھلم کھلا اور ظاہر باتیں۔ پوشیدہ بات کہو یا اعلان سے کہو وہ سب کا عالم ہے رات میں اور دن میں جو ہو رہا ہے اس پر پوشیدہ نہیں ‘۔
الوہیت میں بھی وہ یکتا ہے مخلوق میں کوئی ایسا نہیں جو اپنی حاجتیں اس کی طرف لے جائے۔ جس سے مخلوق عاجزی کرے، جو مخلوق کا ملجا و ماویٰ ہو، جو عبادت کے لائق ہو۔ خالق مختار رب مالک وہی ہے۔ وہ جو کچھ کر رہا ہے سب لائق تعریف ہے اس کا عدل وحکمت اسی کے ساتھ ہے۔ اس کے احکام کو کوئی رد نہیں کر سکتا اس کے ارادوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ غلبہ حکمت رحمت اسی کی ذات پاک میں ہے۔ تم سب قیامت کے دن اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے وہ سب کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس پر تمہارے کاموں میں سے کوئی کام چھپا ہوا نہیں۔ نیکوں کو جزا بدوں کو سزا وہ اس روز دے گا اور اپنی مخلوق میں فیصلے فرمائے گا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
هذه الآياتُ فيها عمومُ خلقِهِ لسائر المخلوقات، ونفوذُ مشيئَتِهِ بجميع البريَّات، وانفرادُهُ باختيار من يختارُهُ ويختصُّه من الأشخاص والأوامر والأزمان والأماكن، وأنَّ أحداً ليس له من الأمر والاختيار شيءٌ، وأنَّه تعالى منزَّه عن كلِّ ما يشركون به من الشريك والظهير والعَوين والولد والصاحبة ونحو ذلك مما أشرك به المشركون، وأنَّه العالمُ بما أكنَّتْهُ الصدور وما أعلنوه، وأنَّه وحدَه المعبودُ المحمودُ في الدنيا والآخرة على ما له من صفاتِ الجلال والجمال، وعلى ما أسداه إلى خلقِهِ من الإحسان والإفضال، وأنَّه هو الحاكم في الدارين؛ في الدُّنيا بالحكم القدريِّ الذي أثَرُهُ جميعُ ما خَلَقَ وذَرَأ، والحكم الدينيِّ الذي أثَرُهُ جميعُ الشرائع والأوامر والنواهي. وفي الآخرة يحكم بحكمِهِ القدريِّ والجزائيِّ، ولهذا قال: {وإليه تُرْجَعونَ}: فيجازي كلًّا منكم بعملِهِ من خيرٍ وشرٍّ.