تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 67

فَاَمَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ مِنَ الۡمُفۡلِحِیۡنَ ﴿۶۷﴾
پس رہا وہ جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا، سو امید ہے کہ وہ فلاح پانے والوں میں سے ہوگا۔ En
لیکن جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور عمل نیک کئے تو اُمید ہے کہ وہ نجات پانے والوں میں ہو
En
ہاں جو شخص توبہ کرلے ایمان لے آئے اور نیک کام کرے یقین ہے کہ وه نجات پانے والوں میں سے ہو جائے گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق سے ان کے معبود اور ان کے رسولوں کے بارے میں اپنے سوال کا ذکر کرنے کے بعد اس طریق کا ذکر کرتا ہے جس کے ذریعے سے بندہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکتا ہے۔ بے شک صرف وہی شخص نجات حاصل کر سکتا ہے جو شرک اور معاصی سے توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے، اس کی عبادت کرتا ہے، اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے، ان کی تصدیق کرتا ہے، نیک عمل کرتا ہے اور پنے اعمال میں رسولوں کی اتباع کرتا ہے۔
﴿ فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ پس امید ہے کہ وہ ہوں یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام خصائل جمع ہیں۔ ﴿ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ کامیاب ہونے والوں میں سے۔ اپنا مطلوب و مقصود حاصل کرنے اور خوف سے نجات پانے میں کامیاب ہونے والے۔ پس متذکرہ بالا امور کے بغیر فلاح کا کوئی راستہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

لما ذَكَرَ تعالى سؤال الخلق عن معبودِهِم وعن رسلِهِم؛ ذكر الطريقَ الذي ينجو به العبدُ من عقاب الله تعالى، وأنَّه لا نجاة إلاَّ لمن اتَّصف بالتوبة من الشرك والمعاصي، وآمنَ بالله فعبَدَه، وآمنَ برسلِهِ فصدَّقهم، وعمل صالحاً متَّبعاً فيه للرسل. {فعسى أن يكونَ}: من جَمَعَ هذه الخصال {من المفلحين}: الناجحين بالمطلوب، الناجين من المرهوب؛ فلا سبيل إلى الفلاح بدون هذه الأمور.