(آیت 67) ➊ { فَاَمَّامَنْتَابَوَاٰمَنَ …:} قرآن مجید میں کافر و مومن اور عذاب و ثواب دونوں کے بیان کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ یہاں کفر پر مرنے والوں کے ذکر کے بعد توبہ کر کے ایمان اور عمل صالح والوں کا ذکر فرمایا کہ امید ہے کہ یہ لوگ فلاح پانے والوں سے ہوں گے۔ ➋ یہاں مشہور سوال ہے کہ توبہ، ایمان اور عمل صالح والوں کے لیے فلاح کا وعدہ موجود ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ کے شروع میں مومنوں کی چند صفات ذکر کرنے کے بعد فرمایا: «{ اُولٰٓىِٕكَعَلٰىهُدًىمِّنْرَّبِّهِمْوَاُولٰٓىِٕكَهُمُالْمُفْلِحُوْنَ }»[البقرۃ: ۵]”یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے بڑی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ پورے کامیاب ہیں۔“ پھر یقین کے بجائے {”فَعَسٰۤى“} (سو امید ہے) کا کیا مطلب ہے؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ یہ شاہانہ اندازِ بیان ہے۔ عام بادشاہ کسی چیز کی امید دلا دیں تو اسے پورا کرتے ہیں، تو شاہوں کا شاہ ملک الملوک امید دلائے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ پوری نہ کرے، یہ اس کی شان ہی کے خلاف ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ {”فَعَسٰۤى“} (سو امید ہے) اس توبہ، ایمان اور عمل صالح والے شخص کے اعتبار سے ہے کہ اسے یہ امید رکھنی چاہیے، کیونکہ یقین تو تب ہو جب اسے قبولیت کی سند مل جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
67۔ البتہ جس شخص نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کئے تو امید ہے [91] کہ وہ فلاح پا سکے۔
[91] یہ شاہانہ انداز کلام ہے۔ یعنی اس دن وہ شخص ضرور فلاح پا لے گا جس نے خواہش نفس کی پیروی اور اللہ کی نافرمانی سے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا۔ پھر اس کے بعد اعمال بھی صالح بجا لاتا رہا۔ گویا دوزخ کے لئے صرف توبہ اور ایمان لانے کا اقرار ہی کافی نہیں بلکہ اس ایمان کا عملی اظہار بھی ضروری ہے جو صرف نیک اعمال بجا لانے کی صورت میں ہی ہو سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تبارک و تعالیٰ مخلوق سے ان کے معبود اور ان کے رسولوں کے بارے میں اپنے سوال کا ذکر کرنے کے بعد اس طریق کا ذکر کرتا ہے جس کے ذریعے سے بندہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ سکتا ہے۔ بے شک صرف وہی شخص نجات حاصل کر سکتا ہے جو شرک اور معاصی سے توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے، اس کی عبادت کرتا ہے، اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہے، ان کی تصدیق کرتا ہے، نیک عمل کرتا ہے اور پنے اعمال میں رسولوں کی اتباع کرتا ہے۔
﴿ فَعَسٰۤىاَنْیَّكُوْنَ ﴾”پس امید ہے کہ وہ ہوں “ یعنی وہ لوگ جن میں یہ تمام خصائل جمع ہیں۔ ﴿ مِنَالْمُفْلِحِیْنَ ﴾”کامیاب ہونے والوں میں سے۔“ اپنا مطلوب و مقصود حاصل کرنے اور خوف سے نجات پانے میں کامیاب ہونے والے۔ پس متذکرہ بالا امور کے بغیر فلاح کا کوئی راستہ نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
لما ذَكَرَ تعالى سؤال الخلق عن معبودِهِم وعن رسلِهِم؛ ذكر الطريقَ الذي ينجو به العبدُ من عقاب الله تعالى، وأنَّه لا نجاة إلاَّ لمن اتَّصف بالتوبة من الشرك والمعاصي، وآمنَ بالله فعبَدَه، وآمنَ برسلِهِ فصدَّقهم، وعمل صالحاً متَّبعاً فيه للرسل. {فعسى أن يكونَ}: من جَمَعَ هذه الخصال {من المفلحين}: الناجحين بالمطلوب، الناجين من المرهوب؛ فلا سبيل إلى الفلاح بدون هذه الأمور.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔