تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا …:} یہ ان کے عذر کا جواب ہے کہ جب پورے عرب میں ہر طرف بدامنی کا دور دورہ ہے، کسی کی جان محفوظ ہے نہ مال، دن دہاڑے لوگوں کو اٹھا کر لونڈی و غلام بنا لیا جاتا ہے، قبائل غربت و فقر کی وجہ سے ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں، تو کیا اس وقت ہم نے انھیں اس حرم میں جگہ نہیں دی جس کے امن و امان کی یہ حالت ہے کہ اس کے جانوروں تک کو کوئی نہیں ستاتا اور جسے وادی غیر ذی زرع ہونے کے باوجود اس قدر مرکزی حیثیت حاصل ہے کہ دنیا بھر کے پھل اور اموال تجارت اس کی طرف کھچے چلے آرہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسے یہ حیثیت ہم نے بخشی ہے، تو جب ہم نے کفروشرک کے باوجود انھیں اس قدر امن و امان دیا اور اپنی نعمتوں سے نوازا تو کیا جب وہ ہمارا دین اختیار کریں گے تو ہم انھیں پناہ نہیں دیں گے؟ اور لوگوں کی دست درازی سے ان کی حفاظت نہیں کریں گے۔ نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہو گا، لیکن اکثر لوگ نادان ہیں، جانتے نہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ عنکبوت (۶۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جیسے فرمان ہے آیت «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ» ۱؎ [2-البقرة:272] ’ تیرے ذمہ ان کی ہدایت نہیں وہ چاہے تو ہدایت بخشے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَمَآ اَكْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِيْنَ» ۱؎ [12-یوسف:103] ’ گو تو ہر چند طمع کرے لیکن ان میں سے اکثر ایماندار نہیں ہوتے ‘ کہ یہ اللہ کے ہی علم میں ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟
بخاری و مسلم میں ہے کہ { یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابوطالب کے بارے میں اتری جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بہت طرف دار تھا اور ہر موقعہ پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیتا تھا۔ اور دل سے محبت کرتا تھا لیکن یہ محبت بوجہ رشتہ داری کے طبعی تھی شرعاً نہ تھی۔ جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کی دعوت دی اور ایمان لانے کی رغبت دلائی لیکن تقدیر کا لکھا اور اللہ کا چاہا غالب آگیا یہ ہاتھوں میں سے پھسل گیا اور اپنے کفر پر اڑا رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے انتقال پر اس کے پاس آئے۔ ابوجہل اور عبداللہ بن امیہ بھی اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہو میں اس کی وجہ سے اللہ کے ہاں تیرا سفارشی بن جاؤنگا }۔ ابوجہل اور عبداللہ کہنے لگے ابوطالب کیا تو اپنے باپ عبدالمطلب کے مذہب سے پھر جائے گا۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھاتے اور وہ دونوں اسے روکتے یہاں تک کہ آخر کلمہ اس کی زبان سے یہی نکلتا کہ میں یہ کلمہ نہیں پڑھتا اور میں عبدالمطلب کے مذہب پر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { بہتر میں تیرے لیے رب سے استغفار کرتا رہونگا یہ اور بات ہے کہ میں روک دیا جاؤں اللہ مجھے منع فرما دے }۔ لیکن اسی وقت آیت اتری کہ «مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ» ۱؎ [9-التوبة:113] یعنی ’ نبی کو اور مومن کو ہرگز یہ بات سزاوار نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے استغفار کریں گو وہ ان کے نزدیکی قرابتدار ہی کیوں نہ ہوں ‘ اور اسی ابوطالب کے بارے میں آیت «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:56] بھی نازل ہوئی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3884]
دوسری روایت میں ہے کہ اس نے کلمہ پڑھنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ میرے بھتیجے میں تو اپنے بڑوں کی روش پر ہوں۔ اور اسی بات پر اس کی موت ہوئی کہ وہ عبدالمطلب کے مذہب پر ہے۔
مشرکین اپنے ایمان نہ لانے کی ایک وجہ یہ بھی بیان کرتے تھے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کو مان لیں تو ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اس دین کے مخالف جو ہمارے چاروں طرف ہیں اور تعداد میں مال میں ہم سے زیادہ ہیں۔ وہ ہمارے دشمن بن جائیں گے اور ہمیں تکلیفیں پہنچائیں گی اور ہمیں برباد کر دیں گے۔
اللہ فرماتا ہے کہ ’ یہ حیلہ بھی ان کا غلط ہے اللہ نے انہیں حرم محترم میں رکھا ہے جہاں شروع دنیا سے اب تک امن وامان رہا ہے تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ حالت کفر میں تو یہاں امن سے رہیں اور جب اللہ کے سچے دین کو قبول کریں تو امن اٹھ جائے؟‘
یہی تو وہ شہر ہے کہ طائف وغیرہ مختلف مقامات سے پھل فروٹ سامان اسباب مال تجارت وغیرہ کی آمد و رفت بکثرت رہتی ہے۔ تمام چیزیں یہاں کھنچی چلی آتی ہیں اور ہم انہیں بیٹھے بٹھائے روزیاں پہنچا رہے ہیں لیکن ان میں اکثر بے علم ہیں۔ اسی لیے ایسے رکیک حیلے اور بے جا عذر پیش کرتے ہیں مروی ہے کہ یہ کہنے والاحارث بن عامر بن نوفل تھا۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يخبر تعالى أنَّ المكذِّبين من قريش وأهل مكة يقولون للرسول - صلى الله عليه وسلم -: {إن نَتَّبِعِ الهُدى معكَ نُتَخَطَّفْ من أرضِنا}: بالقتل والأسر ونهب الأموال؛ فإنَّ الناس قد عادَوْك وخالَفوك؛ فلو تابعناك؛ لتعرَّضْنا لمعاداة الناس كلِّهم، ولم يكن لنا بهم طاقةٌ. وهذا الكلام منهم يدلُّ على سوءِ الظنِّ بالله تعالى، وأنَّه لا ينصرُ دينَه ولا يُعلي كلمتَه، بل يمكِّنُ الناسَ من أهل دينه، فيسومونهم سوء العذاب، وظنُّوا أنَّ الباطلَ سيعلو على الحقِّ. قال الله مبيناً لهم حالةً هم بها دون الناس وأنَّ الله اختصَّهم بها، فقال: {أولم نمكِّن لهم حرماً آمناً يُجْبى إليه ثمراتُ كلِّ شيءٍ رزقاً من لَدُنَّا}؛ أي: أولم نجعلْهم متمكِّنين مُمَكَّنين في حرم يكثره المنتابون ويقصدُه الزائرون، قد احترمه القريبُ والبعيد؛ فلا يُهاج أهلُه، ولا يُنْتَقَصون بقليل ولا كثير، والحالُ أنَّ كلَّ ما حولهم من الأماكن قد حَفَّ بها الخوف من كلِّ جانب، وأهلُها غيرُ آمنين ولا مطمئنِّين؛ فَلْيَحْمَدوا ربَّهم على هذا الأمن التامِّ الذي ليس فيه غيرُهم، وعلى الرزق الكثير الذي يُجْبى إليهم من كلِّ مكان من الثمرات والأطعمة والبضائع ما به يرتزقون ويتوسَّعون، ولْيَتَّبِعوا هذا الرسولَ الكريم؛ لِيَتِمَّ لهم الأمنُ والرغدُ، وإياهم وتكذيبَه والبطرَ بنعمة الله؛ فيبدَّلوا من بعدِ أمْنِهم خوفاً، وبعد عزِّهم ذُلاًّ، وبعد غناهم فقراً.