پھر اگر وہ تیری بات قبول نہ کریں تو جان لے کہ وہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کر رہے ہیں اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کی طرف سے کسی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔ بے شک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
En
پھر اگر یہ تمہاری بات قبول نہ کریں تو جان لو کہ یہ صرف اپنی خواہشوں کی پیروی کرتے ہیں۔ اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے۔ بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
پھر اگر یہ تیری نہ مانیں تو تو یقین کرلے کہ یہ صرف اپنی خواہش کی پیروی کر رہے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر بہکا ہوا کون ہے؟ جو اپنی خواہش کے پیچھے پڑا ہوا ہو بغیر اللہ کی رہنمائی کے، بیشک اللہ تعالیٰ ﻇالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاِنْلَّمْیَسْتَجِیْبُوْالَكَ ﴾”پھر اگر یہ تمھاری بات قبول نہ کریں۔“ یعنی اگر وہ ایسی کتاب نہ لا سکیں جو ان دونوں کتابوں سے زیادہ ہدایت پر مشتمل پر ہو۔ ﴿ فَاعْلَمْاَنَّمَایَتَّبِعُوْنَاَهْوَآءَهُمْ﴾ یعنی پھر آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کا آپ کی اتباع کو ترک کرنا اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے حق اور ہدایت کو پہچان کر اس کی طرف رجوع کیا ہے بلکہ یہ تو مجرد خواہشات نفس کی پیروی ہے ﴿ وَمَنْاَضَلُّمِمَّنِاتَّ٘بَعَهَوٰىهُبِغَیْرِهُدًىمِّنَاللّٰهِ﴾”اور اس شخص سے بڑھ کر گمراہ کون ہوسکتا ہے جو اللہ کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے لگا ہوا ہو؟“ پس یہ شخص لوگوں میں گمراہ ترین شخص ہے کیونکہ اس کے سامنے ہدایت پیش کی گئی اور اسے صراط مستقیم دکھایا گیا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے اکرام و تکریم کے گھر تک پہنچاتا ہے مگر اس نے اس راستے کی طرف التفات کیا نہ اس ہدایت کو قبول کیا۔ اس کے برعکس اس کی خواہش نفس نے اس کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دی جو ہلاکت اور بدبختی کی گھاٹیوں کی طرف جاتا ہے اور وہ راہ ہدایت کو چھوڑ کر اس راستے پر گامزن ہو گیا۔ جس کا یہ وصف ہو، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور گمراہ ہو سکتا ہے؟ اس کا ظلم و تعدی اور حق کے ساتھ اس کی عدم محبت اس بات کے موجب ہیں کہ وہ اپنی گمراہی پر جما رہے اور اللہ تعالیٰ اسے ہدایت سے محروم کر دے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِنَّاللّٰهَلَایَهْدِیالْقَوْمَالظّٰلِمِیْنَ ﴾”بے شک اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔“ یعنی وہ لوگ کہ ظلم و عناد جن کا وصف بن گیا، ان کے پاس ہدایت آئی مگر انھوں نے اسے رد کر دیا اور خواہشات نفس کے پیچھے لگ گئے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہدایت کے دروازے کو بند اور ہدایت کی راہ کو مسدود کر کے گمراہی کے دروازوں اور اس کی راہوں کو اپنے لیے کھول لیا۔ پس وہ اپنی گمراہی اور ظلم میں سرگرداں، اپنی ہلاکت اور بدبختی میں مارے مارے پھرتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد: ﴿ فَاِنْلَّمْیَسْتَجِیْبُوْالَكَفَاعْلَمْاَنَّمَایَتَّبِعُوْنَاَهْوَآءَهُمْ﴾ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ہر وہ شخص جو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو قبول نہیں کرتا اور اس قول کو اختیار کرتا ہے جو قول رسول کے خلاف ہو، وہ ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں بلکہ وہ اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگا ہوا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فإن لم يَسْتَجيبوا لك}: فلم يأتوا بكتابٍ أهدى منهما، {فاعْلَمْ أنَّما يتَّبِعون أهواءهم}؛ أي: فاعلم أنَّ تركَهم اتِّباعك ليسوا ذاهبين إلى حقٍّ يعرِفونه ولا إلى هدىً، وإنَّما ذلك مجرَّد اتِّباع لأهوائِهِم. {ومن أضلُّ ممَّنِ اتَّبع هواه بغيرِ هدىً من الله}: فهذا من أضلِّ الناس؛ حيث عرض عليه الهدى والصراط المستقيم الموصل إلى الله وإلى دار كرامتِهِ؛ فلم يلتفتْ إليه، ولم يُقْبِلْ عليه، ودعاه هواه إلى سلوك الطرق الموصلة إلى الهلاك والشقاء، فاتَّبعه وترك الهدى؛ فهل أحدٌ أضلُّ ممَّن هذا وصفه؟! ولكنَّ ظلمه وعدوانَه وعدمَ محبته للحقِّ هو الذي أوجب له أن يبقى على ضلالِهِ ولا يهديه الله؛ فلهذا قال: {إنَّ الله لا يهدي القوم الظالمين}؛ أي: الذين صار الظلمُ لهم وصفاً والعنادُ لهم نعتاً، جاءهم الهدى فرفضوه، وعَرَضَ لهم الهوى فتبِعوه، سدُّوا على أنفسهم أبواب الهداية وطُرُقَها، وفتحوا عليهم أبواب الغِواية وسُبُلَها؛ فهم في غيِّهم وظلمهم يعمهون، وفي شقائِهِم وهلاكِهِم يتردَّدون، وفي قوله: {فإن لم يَسْتَجيبوا لك فاعْلَمْ أنَّما يتَّبِعون أهواءهم}: دليلٌ على أنَّ كلَّ مَنْ لم يستجبْ للرسول، وذهبَ إلى قولٍ مخالفٍ لقول الرسول؛ فإنَّه لم يذهبْ إلى هدىً، وإنَّما ذهب إلى هوى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔