تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 51

وَ لَقَدۡ وَصَّلۡنَا لَہُمُ الۡقَوۡلَ لَعَلَّہُمۡ یَتَذَکَّرُوۡنَ ﴿ؕ۵۱﴾
اور بلاشبہ یقینا ہم نے انھیں پے در پے بات پہنچائی، تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ En
اور ہم پے درپے اُن لوگوں کے پاس (ہدایت کی) باتیں بھیجتے رہے ہیں تاکہ نصیحت پکڑیں
En
اور ہم برابر پے درپے لوگوں کے لیے اپنا کلام بھیجتے رہے تاکہ وه نصیحت حاصل کرلیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ یعنی ہم نے اپنی بات کو لگاتار طریقے سے ان تک پہنچایا اور ان پر اپنی رحمت اور لطف و کرم کی بنا پر اسے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرمایا ﴿ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّـرُوْنَ تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔ جب ان پر آیات الٰہی بتکرار نازل ہوں گی اور بوقت ضرورت ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلائل نازل ہوں گے۔ پس کتاب اللہ کا ٹکڑوں میں نازل ہونا، ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا لطف و کرم ہے۔ تب وہ ایسی بات پر کیوں اعتراض کرتے ہیں جس میں ان کی بھلائی ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولقد وَصَّلْنا لهم القولَ}؛ أي: تابَعْناه وواصَلْناه وأنزَلْناه شيئاً فشيئاً رحمة بهم ولطفاً؛ {لعلَّهم يتذكَّرونَ}: حين تتكرَّرُ عليهم آياتُهُ، وتنزِلُ عليهم بيناتُهُ وقت الحاجة إليها، فصار نزولُهُ متفرِّقاً رحمةً بهم، فلِمَ اعترضوا بما هو من مصالحهم؟!