تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ:} ”اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کی پیروی کرے۔“ اس آیت میں تقلید کا زبردست رد ہے، کیونکہ تقلید کی تعریف ہے: {” أَخْذُ قَوْلِ الْغَيْرِ بِلاَ دَلِيْلٍ“} کہ اللہ اور اس کے رسول کے غیر کی بات کو بلا دلیل لے لینا۔ اللہ کی طرف سے آنے والی ہدایت دلیل ہے، جو قرآن اور سنت ہے۔ اس کو چھوڑ کر جس کی بھی بات مانی جائے وہ خواہش کی پیروی ہے، جس سے بڑی گمراہی کوئی نہیں۔ رازی نے بھی اس آیت کو تقلید کے رد کی دلیل قرار دیا ہے۔
➌ { اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ:} یہ کہنے کے بجائے کہ اللہ ایسے لوگوں کو جو خواہش کی پیروی کریں، ہدایت نہیں دیتا، فرمایا، اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا، یعنی اللہ کی ہدایت کے بجائے اپنی خواہش کی پیروی کرنے والے ظالم ہیں اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا، کیونکہ وہ ظلمت میں رہنا پسند کرتے ہیں اور جو چیز جہاں رکھنی چاہیے وہاں رکھنے کے بجائے دوسری جگہ رکھتے ہیں (ظلم کا یہی معنی ہے) اور جو اندھیرے میں رہنے پر اصرار کرے اسے ہدایت کی روشنی کیسے نصیب ہو سکتی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فإن لم يَسْتَجيبوا لك}: فلم يأتوا بكتابٍ أهدى منهما، {فاعْلَمْ أنَّما يتَّبِعون أهواءهم}؛ أي: فاعلم أنَّ تركَهم اتِّباعك ليسوا ذاهبين إلى حقٍّ يعرِفونه ولا إلى هدىً، وإنَّما ذلك مجرَّد اتِّباع لأهوائِهِم. {ومن أضلُّ ممَّنِ اتَّبع هواه بغيرِ هدىً من الله}: فهذا من أضلِّ الناس؛ حيث عرض عليه الهدى والصراط المستقيم الموصل إلى الله وإلى دار كرامتِهِ؛ فلم يلتفتْ إليه، ولم يُقْبِلْ عليه، ودعاه هواه إلى سلوك الطرق الموصلة إلى الهلاك والشقاء، فاتَّبعه وترك الهدى؛ فهل أحدٌ أضلُّ ممَّن هذا وصفه؟! ولكنَّ ظلمه وعدوانَه وعدمَ محبته للحقِّ هو الذي أوجب له أن يبقى على ضلالِهِ ولا يهديه الله؛ فلهذا قال: {إنَّ الله لا يهدي القوم الظالمين}؛ أي: الذين صار الظلمُ لهم وصفاً والعنادُ لهم نعتاً، جاءهم الهدى فرفضوه، وعَرَضَ لهم الهوى فتبِعوه، سدُّوا على أنفسهم أبواب الهداية وطُرُقَها، وفتحوا عليهم أبواب الغِواية وسُبُلَها؛ فهم في غيِّهم وظلمهم يعمهون، وفي شقائِهِم وهلاكِهِم يتردَّدون، وفي قوله: {فإن لم يَسْتَجيبوا لك فاعْلَمْ أنَّما يتَّبِعون أهواءهم}: دليلٌ على أنَّ كلَّ مَنْ لم يستجبْ للرسول، وذهبَ إلى قولٍ مخالفٍ لقول الرسول؛ فإنَّه لم يذهبْ إلى هدىً، وإنَّما ذهب إلى هوى.