بے شک فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ بنا دیا، جن میں سے ایک گروہ کو وہ نہایت کمزور کر رہا تھا، ان کے بیٹوں کو بری طرح ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ بلاشبہ وہ فساد کرنے والوں سے تھا۔
En
کہ فرعون نے ملک میں سر اُٹھا رکھا تھا اور وہاں کے باشندوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا اُن میں سے ایک گروہ کو (یہاں تک) کمزور کر دیا تھا کہ اُن کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتا اور اُن کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔ بیشک وہ مفسدوں میں تھا
یقیناً فرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی اور وہاں کے لوگوں کو گروه گروه بنا رکھا تھا اور ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور ان کے لڑکوں کو تو ذبح کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زنده چھوڑ دیتا تھا۔ بیشک وشبہ وه تھا ہی مفسدوں میں سے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے قصہ کی ابتدا اس طرح ہوتی ہے ﴿ اِنَّفِرْعَوْنَعَلَافِیالْاَرْضِ ﴾”کہ بلاشبہ فرعون نے ملک میں سر اٹھا رکھا تھا۔“ یعنی اس نے اپنے اقتدار، سلطنت، لشکروں اور اپنے جبروت کی بنا پر تکبر اور سرکش لوگوں کا وتیرہ اختیار کیا۔ مگر وہ کامیاب لوگوں میں سے نہ تھا۔ ﴿ وَجَعَلَاَهْلَهَاشِیَعًا﴾”اور اس نے وہاں کے لوگوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا۔“ یعنی ان کو متفرق گروہوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ وہ اپنی خواہش کے مطابق ان میں تصرف کرتا تھا اور اپنے قہر اور تسلط کے بل بوتے پر جو حکم چاہتا نافذ کرتا تھا۔
﴿ یَّسْتَضْعِفُطَآىِٕفَةًمِّؔنْهُمْ ﴾”ان میں سے ایک گروہ کو کمزور کردیا تھا۔“ اس گروہ سے مراد بنی اسرائیل ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں پر فضیلت دی۔ اس کے لیے مناسب یہی تھا کہ وہ ان کی عزت و تکریم کرتا مگر اس نے ان کو زیردست بنا کر ذلیل کیا کیونکہ اسے معلوم تھا کہ اس کو روکنے والا اور اس کے ارادوں میں حائل ہونے والا کوئی نہیں ہے۔ اس لیے وہ ان کی کوئی پروا نہیں کرتا تھا اور نہ وہ ان کے معاملے کو کوئی اہمیت ہی دیتا تھا اور حالت یہاں تک پہنچ گئی کہ ﴿ یُذَبِّ٘ـحُاَبْنَآءَهُمْوَیَسْتَحْیٖنِسَآءَهُمْ﴾”وہ ان کے بیٹوں کو ذبح کرڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔“ اس خوف سے کہ کہیں ان کی تعداد زیادہ نہ ہو جائے اور اس کے ملک میں وہ غالب آ کر کہیں اقتدار کے مالک نہ بن جائیں۔ ﴿ اِنَّهٗكَانَمِنَالْمُفْسِدِیْنَ ﴾ یعنی وہ ان لوگوں میں سے تھا جن کا مقصد اصلاح دین ہوتا ہے نہ اصلاح دنیا اور اس کا مقصد زمین میں اس کی طرف سے بگاڑ پیدا کرنا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فأول هذه القصَّة: {إنَّ فرعون علا في الأرض}: في ملكه وسلطانِهِ وجنودِهِ وجبروتِهِ، فصار من أهل العلوِّ فيها، لا من الأعْلَيْن فيها، {وجعل أهلها شِيَعاً}؛ أي: طوائف متفرِّقة يتصرَّف فيهم بشهوته وينفِّذ فيهم ما أراد من قهره وسطوته، {يستضعِفُ طائفةً منهم}: وتلك الطائفةُ هم بنو إسرائيل، الذين فضَّلهم الله على العالمين، الذي ينبغي له أن يكرِمَهم ويجلَّهم، ولكنه استضعفهم بحيثُ إنه رأى أنَّهم لا مَنَعَةَ لهم تمنعُهم مما أراده فيهم، فصار لا يُبالي بهم ولا يهتمُّ بشأنهم، وبلغت به الحال إلى أنَّه {يُذَبِّح أبناءهم ويَسْتَحيي نساءهم}: خوفاً من أن يكثرُوا فيغمروه في بلاده، ويصير لهم الملك. {إنَّه كان من المفسدين}: الذين لا قصدَ لهم في صلاح الدين ولا صلاح الدُّنيا. وهذا من إفساده في الأرض.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔