تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 5

وَ نُرِیۡدُ اَنۡ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیۡنَ اسۡتُضۡعِفُوۡا فِی الۡاَرۡضِ وَ نَجۡعَلَہُمۡ اَئِمَّۃً وَّ نَجۡعَلَہُمُ الۡوٰرِثِیۡنَ ۙ﴿۵﴾
اور ہم چاہتے تھے کہ ہم ان لوگوں پر احسان کریں جنھیں زمین میں نہایت کمزور کر دیا گیا اور انھیں پیشوا بنائیں اور انھی کو وارث بنائیں۔ En
اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کر دیئے گئے ہیں اُن پر احسان کریں اور اُن کو پیشوا بنائیں اور انہیں (ملک کا) وارث کریں
En
پھر ہماری چاہت ہوئی کہ ہم ان پر کرم فرمائیں جنہیں زمین میں بےحد کمزور کر دیا گیا تھا، اور ہم انہیں کو پیشوا اور (زمین) کا وارث بنائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَنُرِیْدُ اَنْ نَّ٘مُنَّ عَلَى الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ اور ہم چاہتے تھے کہ جو لوگ ملک میں کمزور کردیے گئے ہیں ان پر احسان کریں۔ کہ ان پر سے ذلت کے تمام نشانات مٹا دیں اور ان لوگوں کو ہلاک کر دیں جو ان کے ساتھ دشمنی کرتے تھے اور انھیں تنہا چھوڑ دیں جو ان کی مخالفت کرتے تھے۔ ﴿ وَنَجْعَلَهُمْ اَىِٕمَّةً اور (دین میں) ہم ان کو امام بنا دیں اور یہ چیز زیردست رہتے ہوئے حاصل نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان کو زمین میں اقتدار اور پورا اختیار عطا کیا جائے۔ ﴿ وَّنَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَ اور ہم ان کو زمین کا وارث بنا دیں جن کا آخرت سے پہلے ہی دنیا میں اچھا انجام ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ونريدِ أن نَمُنَّ على الذين استُضْعِفوا في الأرضِ}: بأن نُزيلَ عنهم موادَّ الاستضعاف ونُهْلِكَ من قاوَمَهم ونخذل من ناوأهم، {ونَجْعَلَهم أئمَّةً} في الدين، وذلك لا يحصُلُ مع الاستضعاف، بل لابدَّ من تمكينٍ في الأرض، وقدرةٍ تامَّةٍ، {ونجعلهم الوارثين}: للأرض، الذين لهم العاقبة في الدنيا قبل الآخرة.