تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ القصص (28) — آیت 3

نَتۡلُوۡا عَلَیۡکَ مِنۡ نَّبَاِ مُوۡسٰی وَ فِرۡعَوۡنَ بِالۡحَقِّ لِقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳﴾
ہم تجھ پر موسیٰ اور فرعون کی کچھ خبر حق کے ساتھ پڑھتے ہیں، ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں۔ En
(اے محمدﷺ) ہم تمہیں موسٰی اور فرعون کے کچھ حالات مومن لوگوں کو سنانے کے لئے صحیح صحیح سناتے ہیں
En
ہم آپ کے سامنے موسیٰ اور فرعون کا صحیح واقعہ بیان کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان رکھتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اس کے جملہ مضامین میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کا قصہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان کیا ہے اور متعدد مقامات پر اس کا اعادہ کیا ہے اور اس مقام پر بھی اس قصہ کو تفصیل سے بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ نَتْلُوْا عَلَیْكَ مِنْ نَّبَاِ مُوْسٰؔى وَفِرْعَوْنَ بِالْحَقِّ ہم تمھیں موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے کچھ حالات صحیح صحیح سناتے ہیں۔ کیونکہ ان کے واقعات بہت ہی انوکھے اورا ن کا قصہ نہایت تعجب انگیز ہے۔ ﴿ لِقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ مومن لوگوں کے لیے پس انھی کو خطاب کیا گیا ہے اور کلام کا رخ بھی انھی کی طرف ہے۔ کیونکہ انھی کے پاس، ایمان ہے جس کی بنا پر وہ اس میں تدبر کرتے ہیں، اسے قبول کرتے ہیں اور عبرت کے مواقع پر اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور ان کے ذریعے سے ایمان و یقین میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی نیکیاں نشوونما پاتی ہیں۔ رہے ان کے علاوہ دیگر لوگ تو وہ ان سے استفادہ نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ ان پر حجت قائم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دور رکھا ہے، اپنے اور ان کے درمیان پر دہ حائل کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ اس کو سمجھنے سے عاری ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

من جملة ما أبانَ، قصَّةُ موسى وفرعونَ؛ فإنَّه أبداها وأعادها في عدَّة مواضع، وبسطها في هذا الموضع، فقال: {نتلو عليك من نبأ موسى وفرعونَ بالحقِّ}: فإنَّ نبأهما غريبٌ وخبرهما عجيبٌ، {لقوم يؤمنونَ}: فإليهم يُساق الخطابُ ويوجَّه الكلام؛ حيث إنَّ معهم من الإيمان ما يُقْبِلونَ به على تدبُّر ذلك وتلقِّيه بالقَبول والاهتداء بمواقع العِبَرِ، ويزدادون به إيماناً ويقيناً وخيراً إلى خيرهم، وأما مَن عداهم؛ فلا يستفيدونَ منه إلاَّ إقامة الحجَّة عليهم، وصانه الله عنهم، وجعل بينهم وبينه حجاباً أن يفقهوه.