اور وہ شہر میں اس کے رہنے والوں کی کسی قدر غفلت کے وقت داخل ہوا تو اس میں دو آدمیوں کو پایا کہ لڑ رہے ہیں، یہ اس کی قوم سے ہے اور یہ اس کے دشمنوں میں سے ہے۔ تو جو اس کی قوم سے تھا اس نے اس سے اس کے خلاف مدد مانگی جو اس کے دشمنوں سے تھا، تو موسیٰ نے اسے گھونسا مارا تو اس کا کام تمام کر دیا۔ کہا یہ شیطان کے کام سے ہے، یقینا وہ کھلم کھلا گمراہ کرنے والا دشمن ہے۔
En
اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے بےخبر ہو رہے تھے تو دیکھا کہ وہاں دو شخص لڑ رہے تھے ایک تو موسٰی کی قوم کا ہے اور دوسرا اُن کے دشمنوں میں سے تو جو شخص اُن کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو موسٰی کے دشمنوں میں سے تھا مدد طلب کی تو اُنہوں نے اس کو مکا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا کہنے لگے کہ یہ کام تو (اغوائے) شیطان سے ہوا بیشک وہ (انسان کا) دشمن اور صریح بہکانے والا ہے
اور موسیٰ (علیہ السلام) ایک ایسے وقت شہر میں آئے جبکہ شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ یہاں دو شخصوں کو لڑتے ہوئے پایا، یہ ایک تو اس کے رفیقوں میں سے تھا اور یہ دوسرا اس کے دشمنوں میں سے، اس کی قوم والے نے اس کے خلاف جو اس کے دشمنوں میں سے تھا اس سے فریاد کی، جس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو مکا مارا جس سے وه مر گیا موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے، یقیناً شیطان دشمن اور کھلے طور پر بہکانے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَدَخَلَالْمَدِیْنَةَعَلٰىحِیْنِغَفْلَةٍمِّنْاَهْلِهَا ﴾”اور وہ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے کہ وہاں کے باشندے سو رہے تھے۔“ یہ وقت یا تو قیلولہ کا وقت تھا یا کوئی ایسا وقت تھا کہ جب لوگ آرام کرتے ہیں۔ ﴿ فَوَجَدَفِیْهَارَجُلَیْ٘نِیَقْتَتِلٰنِ﴾ پس انھوں نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑتے ہوئے پایا“ وہ دونوں ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ ﴿ هٰؔذَامِنْشِیْعَتِهٖ ﴾”ایک تو ان کی قوم سے تھا۔“ یعنی بنی اسرائیل میں سے ﴿ وَهٰؔذَامِنْعَدُوِّهٖ﴾”دوسرا ان کے دشمنوں میں سے تھا۔“مثلاً: قبطی وغیرہ۔ ﴿ فَاسْتَغَاثَهُالَّذِیْمِنْشِیْعَتِهٖعَلَىالَّذِیْمِنْعَدُوِّهٖ﴾”پس جو شخص ان کی قوم میں سے تھا اس نے دوسرے شخص کے مقابلے میں جو ان کے دشمنوں میں سے تھا موسیٰ علیہ السلام سے مدد طلب کی۔“ کیونکہ موسیٰ علیہ السلام کا نسب اب مشہور ہو چکا تھا اور لوگوں کو علم تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام سے اس شخص کا مدد کا خواستگار ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ آپ دارالسلطنت میں ایک نہایت اہم منصب پر فائز تھے جس سے لوگ خوف کھاتے تھے اور اس سے اپنی امیدیں بھی وابستہ رکھتے تھے۔ ﴿ فَوَؔكَزَهٗمُوْسٰؔى ﴾موسیٰ علیہ السلام نے اسرائیلی کی مدد کرنے کے لیے اس دشمن شخص کو گھونسا رسید کیا ﴿ فَ٘قَ٘ضٰىعَلَیْهِ﴾ پس حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوت اور گھونسے کی شدت نے اس قبطی کا کام تمام کر دیا۔ اس پر آپ کو سخت ندامت ہوئی۔ آپ نے تاسف سے کہا: ﴿ هٰؔذَامِنْعَمَلِالشَّ٘یْطٰ٘نِ﴾”یہ شیطان کا عمل ہے۔“ یعنی شیطان نے وسوسہ ڈالا اور اس برائی کو مزین کر دیا۔ ﴿ اِنَّهٗعَدُوٌّمُّضِلٌّمُّبِیْنٌ ﴾”بے شک وہ دشمن اور صریح بہکانے والا ہے۔“ اسی لیے اس کی کھلی عداوت اور بندوں کو گمراہ کرنے کی حرص کے سبب سے یہ حادثہ پیش آیا۔
پھر موسیٰ علیہ السلام نے رب سے بخشش طلب کرتے ہوئے عرض کیا ﴿ رَبِّاِنِّیْظَلَمْتُنَفْسِیْفَاغْ٘فِرْلِیْفَغَفَرَلَهٗ١ؕاِنَّهٗهُوَالْغَفُوْرُالرَّحِیْمُ ﴾”اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا تو مجھے بخش دے، پس اللہ نے اسے بخش دیا، بے شک وہ بخشنے والا مہربان ہے۔“ خاص طور پر جو اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرتے ہیں اور توبہ و انابت کے ساتھ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام سے قتل ہوا اور آپ نے فوراً استغفار کر لیا۔
﴿ قَالَ ﴾موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: ﴿ رَبِّبِمَاۤاَنْعَمْتَعَلَیَّ ﴾”اے رب! بہ سبب اس کے جو تونے مجھ پر انعام کیا۔“ تو نے مجھے قبول توبہ، مغفرت اور بے شمار نعمتوں سے سرفراز فرمایا ﴿ فَلَنْاَكُوْنَظَهِیْرًا﴾ تو میں ہرگز مددگار نہیں ہوں گا ﴿ لِّلْمُجْرِمِیْنَ ﴾”گناہ گاروں کا“ یعنی معاصی میں کسی کی مدد نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت و احسان کے سبب سے موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے وعدہ ہے کہ وہ کسی مجرم کی مدد نہیں کریں گے جیسا کہ وہ قبطی کے قتل کے سلسلے میں کر چکے ہیں۔ اس آیت کریمہ سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بندے سے نیکی کرنے اور برائی ترک کرنے کا تقاضا کرتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ودخل المدينة على حين غفلة من أهلها}: إما وقت القائلة أو غير ذلك من الأوقات التي بها يغفلون عن الانتشار، {فوجَدَ فيها رجلينِ يقتتلانِ}: [أي] يتخاصمانِ ويتضاربانِ. {هذا من شيعتِهِ}؛ أي: من بني إسرائيل، {وهذا من عدوِّه}: القبط، {فاستغاثه الذي من شيعتِهِ على الذي من عدوِّهِ}: لأنَّه قد اشتهر وعَلِمَ الناسُ أنَّه من بني إسرائيل، واستغاثتُهُ لموسى دليلٌ على أنه بَلَغَ موسى عليه السلام مبلغاً يُخافُ منه ويُرجى من بيت المملكة والسلطان. {فوَكَزَهُ موسى}؛ أي: وكز الذي من عدوِّه استجابةً لاستغاثة الإسرائيليِّ، {فقضى عليه}؛ أي: أماته من تلك الوكزةِ لشدَّتِها وقوَّة موسى. فندم موسى عليه السلام على ما جرى منه، و {قال هذا من عمل الشَّيطانِ}؛ أي: من تزيينه ووسوسته. {إنَّه عَدُوٌّ مضلٌّ مبينٌ}: فلذلك أجريتُ ما أجريتُ بسبب عداوتِهِ البيِّنة وحرصه على الإضلال. ثم استغفر ربَّه، فَـ {قَال ربِّ إنِّي ظلمتُ نفسي فاغْفِرْ لي فَغَفَرَ له إنَّه هو الغفورُ الرحيم}: خصوصاً للمُخْبِتينَ إليه، المبادِرين للإنابةِ والتوبةِ؛ كما جرى من موسى عليه السلام، فَـ {قَالَ} موسى: {ربِّ بما أنْعَمْتَ عليَّ}: بالتوبة والمغفرةِ والنعم الكثيرة، {فلنْ أكونَ ظهيراً}؛ أي: مُعيناً ومساعداً {للمجرِمين}؛ أي: لا أعين أحداً على معصيةٍ. وهذا وعدٌ من موسى عليه السلام بسبب مِنَّةِ الله عليه أنْ لا يُعينَ مجرماً كما فعل في قَتْل القبطيِّ، وهذا يفيدُ أنَّ النعم تقتضي من العبدِ فعل الخير وترك الشَّرِّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔