تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { فَوَجَدَ فِيْهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلٰنِ …:} موسیٰ علیہ السلام کو معلوم تھا کہ وہ بنی اسرائیل سے ہیں، وہ قبطیوں کے بنی اسرائیل پر مظالم سے بھی آگاہ تھے اور ہر روز اپنی آنکھوں سے ان مظالم کا مشاہدہ کرتے تھے، اس لیے قدرتی طور پر ان کی ہمدردیاں اپنی قوم کے ساتھ تھیں۔ قوم بھی جانتی تھی کہ وہ ان کے ایک فرد ہیں۔ اب موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ جھگڑ رہے ہیں، ان میں سے ایک ان کی قوم سے ہے اور دوسرا قبطی ہے، جو ان کے دشمن تھے۔ قبطی حسبِ عادت غلام سمجھ کر اسرائیلی پر زیادتی کر رہا تھا۔ اسرائیلی اگر مقابلہ کر سکتا ہوتا تو اسے مدد مانگنے کی ضرورت نہ تھی۔ جب وہ بے بس ہو گیا تو اس نے مدد کے لیے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی۔ موسیٰ علیہ السلام طبعی طور پر کمزوروں اور مظلوموں کے ہمدرد تھے۔ اب ظلم ہوتے دیکھا تو مظلوم کو بچانے کے لیے آگے بڑھے اور قبطی کو ایک گھونسا مارا، جس سے اس کا کام تمام ہو گیا۔ موسیٰ علیہ السلام کا اسے قتل کرنے کا نہ ارادہ تھا نہ ان کے وہم و گمان میں یہ بات تھی کہ وہ ایک گھونسے سے مر جائے گا۔ جب اچانک یہ واقعہ ہوا اور موسیٰ علیہ السلام نے اس کے انجام پر غور کیا کہ ان کے اور ان کی قوم کے حق میں اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے، تو وہ سخت پریشان ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ شیطان کا کام ہے جس نے بڑے فساد کے لیے مجھے غصہ دلا کر یہ کام کروایا ہے۔ وہ تو ایسا دشمن ہے جو کھلم کھلا گمراہ کر دینے والا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[23] یعنی جب لوگ سو رہے تھے اور راستے اور سڑکیں سنسان اور بے آباد معلوم ہوتی تھیں۔ ایسا وقت عموماً علی الصبح ہوا کرتا ہے سورج کے طلوع ہونے سے بہت پہلے یا گرمیوں میں دوپہر کے بعد جب اکثر لوگ آرام کر رہے ہوتے ہیں۔
[25] حضرت موسیٰ سے اس طرح ایک قبطی کا قتل ہو جانا دراصل ایک بڑے فتنہ کا سبب بن سکتا تھا۔ اب یہ اتفاق کی بات ہے کہ آس پاس کوئی گواہ موجود نہ تھا۔ اور یہ بات صیغہ راز میں ہی رہ گئی کہ اس قبطی کا قاتل کون ہے اور اگر پتا چل بھی جاتا تو بنی اسرائیل پر ان کی زندگی اور بھی اجیرن بنا دی جاتی۔ موسیٰؑ کو جب قتل کے اس انجام کا خیال آیا تو فوراً پکار اٹھے کہ یہ کام مجھ سے شیطان نے کروایا ہے۔ وہ تو چاہتا ہی یہ ہے کہ ایسے فتنے کھڑے ہوتے رہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آپ علیہ السلام ایک مرتبہ شہر میں آتے ہیں یا تو مغرب کے بعد یا ظہر کے وقت کہ لوگ کھانے پینے میں یا سونے میں مشغول ہیں راستوں پر آمد ورفت نہیں تھی تو دیکھتے ہیں کہ دو شخص لڑ جھگڑرہے ہیں۔ ایک اسرائیلی ہے دوسرا قبطی ہے۔ اسرائیلی نے موسیٰ علیہ السلام سے قبطی کی شکایت کی اور اس کا زور ظلم بیان کیا جس پر آپ علیہ السلام کو غصہ آ گیا اور ایک گھونسہ اسے کھینچ مارا جس سے وہ اسی وقت مرگیا۔
موسیٰ علیہ السلام گھبرا گئے اور کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے اور شیطان دشمن اور گمراہ ہے اور اس کا دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہونا بھی ظاہر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنے لگے اور استغفار کرنے لگے۔ اللہ نے بھی بخش دیا وہ بخشنے والا مہربان ہی ہے۔ اب کہنے لگے ”اے اللہ تو نے جو جاہ وعزت بزرگی اور نعمت مجھے عطا فرمائی ہے میں اسے سامنے رکھ کر وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی کسی نافرمان کی کسی امر میں موافقت اور امداد نہیں کرونگا۔“
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ودخل المدينة على حين غفلة من أهلها}: إما وقت القائلة أو غير ذلك من الأوقات التي بها يغفلون عن الانتشار، {فوجَدَ فيها رجلينِ يقتتلانِ}: [أي] يتخاصمانِ ويتضاربانِ. {هذا من شيعتِهِ}؛ أي: من بني إسرائيل، {وهذا من عدوِّه}: القبط، {فاستغاثه الذي من شيعتِهِ على الذي من عدوِّهِ}: لأنَّه قد اشتهر وعَلِمَ الناسُ أنَّه من بني إسرائيل، واستغاثتُهُ لموسى دليلٌ على أنه بَلَغَ موسى عليه السلام مبلغاً يُخافُ منه ويُرجى من بيت المملكة والسلطان. {فوَكَزَهُ موسى}؛ أي: وكز الذي من عدوِّه استجابةً لاستغاثة الإسرائيليِّ، {فقضى عليه}؛ أي: أماته من تلك الوكزةِ لشدَّتِها وقوَّة موسى. فندم موسى عليه السلام على ما جرى منه، و {قال هذا من عمل الشَّيطانِ}؛ أي: من تزيينه ووسوسته. {إنَّه عَدُوٌّ مضلٌّ مبينٌ}: فلذلك أجريتُ ما أجريتُ بسبب عداوتِهِ البيِّنة وحرصه على الإضلال. ثم استغفر ربَّه، فَـ {قَال ربِّ إنِّي ظلمتُ نفسي فاغْفِرْ لي فَغَفَرَ له إنَّه هو الغفورُ الرحيم}: خصوصاً للمُخْبِتينَ إليه، المبادِرين للإنابةِ والتوبةِ؛ كما جرى من موسى عليه السلام، فَـ {قَالَ} موسى: {ربِّ بما أنْعَمْتَ عليَّ}: بالتوبة والمغفرةِ والنعم الكثيرة، {فلنْ أكونَ ظهيراً}؛ أي: مُعيناً ومساعداً {للمجرِمين}؛ أي: لا أعين أحداً على معصيةٍ. وهذا وعدٌ من موسى عليه السلام بسبب مِنَّةِ الله عليه أنْ لا يُعينَ مجرماً كما فعل في قَتْل القبطيِّ، وهذا يفيدُ أنَّ النعم تقتضي من العبدِ فعل الخير وترك الشَّرِّ.